95

پاکستان میں کورونا وائرس کی مزید دو نئی اقسام سامنے آگئیں افریقن اور برازیلین کرونا وائرس کے کنٹیکٹ کی ٹریسنگ شروع کر دی

*پاکستان میں کورونا وائرس کی مزید دو نئی اقسام سامنے آگئیں ،وزرات نیشنل ہیلتھ سروسز*

نیشنل ہیلتھ سروسز اور این سی او سی کورونا کی اقسام پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے،وزارت

افریقن اور برازیلین کرونا وائرس کے کنٹیکٹ کی ٹریسنگ شروع کر دی ،وزرات نیشنل ہیلتھ سروسز

ماسک پہنے کو یقینی بنائیں ،گھر سے بلا ضرورت باہر مت نکلیں ،وزرات نیشنل ہیلتھ سروسز

سماجی فاصلے کو عملی طور پر یقینی بنائیں ،وزرات نیشنل ہیلتھ سروسز

افریقن اور برازیلین کورونا وائرس کی اقسام رپورٹ ہوئی ہیں ،وزرات نیشنل ہیلتھ سروسز

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں کئے گئے ٹیسٹ میں نئی اقسام پائی گئیں ،وزرات نیشنل ہیلتھ سروسز

کورونا سے متعلق خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے منسوب ایک من گھڑت خبر عوام کے اذہان میں شکوک کو ہوا دے رہی ہے ۔ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس میں کورونا یا کووڈ سے مرنے والوں کے پوسٹ مارٹم سے پتا چلا ہے کہ:
– کورونا کا کوئی وجود نہیں اور یہ مرض ایک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
– موت کی وجہ خون کا رگوں میں جم جانا ہے جو بیکٹیریا سے ہوتا ہے ۔
– عالمی ادارہ صحت WHO کی ہدایات تھیں کہ کورونا سے مرنے والوں کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جائے ، اور روس نے بڑے پیمانے پر اس کی خلاف ورزی کی ہے ۔
۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔
رائیٹرز نے 15 اپریل 2021 کے ایک آرٹیکل https://www.reuters.com/article/factcheck-russia-covid-autopsy-idUSL1N2M82C9 میں اس خبر کو من گھڑت قرار دیا ہے ۔ اور کہا ہے کہ

1 ۔ ڈبلیو ایچ او نے COVID-19 متاثرین کے لئے پوسٹ مارٹم کرنے کی ممانعت نہیں کی ۔ البتہ ستمبر 2020 میں ادارے نے کووڈ سے مرنے والے افراد کے پوسٹ مارٹم کے حفاظتی طریقہ کار کے بارے میں رہنمائی جاری کی تھی ۔
پوسٹ مارٹم روس سمیت بہت سے دیگر ممالک میں ایک عمومی طریقہ کار ہے جس سے موت کی وجہ متعین کرنے میں مدد ملتی ہے ۔
14 اپریل 2021 تک روس میں 104,000 افراد کی اموات کووڈ 19 سے ہونے کی تصدیق روسی وزارت صحت خود کر چکا ہے ۔

2 ۔ کورونا کی پیچیدگیوں میں رگوں میں خون کا جمنا thrombosis شامل ہے جس کا علم طبی ماہرین کو ایک سال سے ہے ۔ اسی وجہ سے کووڈ کے شدید بیمار افراد کو خون پتلا کرنے کی ادویات مثلاً heparin دی جاتی ہیں ۔ اس سے وائرس ہونے کی نفی نہیں ہوتی ، بلکہ کئی انفکشنز اور دیگر بیماریوں کی پیچیدگیوں کی وجہ تھرومبوسس ہوتا ہے ، یہ حقیقت سالوں سے میڈیکل سائنس میں مسلمہ ہے ۔
(ایسپرین اس کا اصل علاج نہیں جیسا کہ اس خبر میں کہا گیا ہے) ۔

3 ۔ کووڈ سے اموات کی وجہ محض تھرومبوسس نہیں ، مدافعتی نظام کی کمزوری سے نمونیا اور دوسرے secondary انفکشن ، ہارٹ اٹیک ، گردوں کا فیل ہوجانا ، وغیرہ شامل ہیں ۔ (ایسے پیچیدہ کیسز پانچ فیصد سے کم متاثر افراد ہی میں ہوتے ہیں) ۔

4 ۔ ایک اور غلط بات جو اس پوسٹ میں کہی گئی یہ ہے کہ بیکٹیریا کی وجہ سے اس بیماری کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے با آسانی ہوجاتا ہے ۔ یہ بھی غلط ہے ۔
کووڈ سمیت دیگر وائرس انفکشن کا علاج اینٹی بائیوٹک ادویات سے کرنا غلط ہے (جبکہ اینٹی وائرل ادویات شدید نوعیت کے کچھ مریضوں میں فائدہ دے سکتی ہیں) . اینٹی بائیوٹک کا فایدہ صرف ان کیسز میں ہوسکتا ہے جن میں بیکٹیریا secondary انفکشن کرائیں ۔ بے دریغ استعمال سے اینٹی بائیوٹکس اصل بیکٹیریا کے انفکشن میں resistance یعنی بے اثر بھی ہوسکتی ہیں ۔

خلاصہ ۔
ایک سال سے زیادہ عرصے سے اس وبا میں مبتلا افراد کو اپنے دائیں بائیں ہر طرف دیکھنے اور کثیر تعداد میں اموات کے مشاہدے کے باوجود اگر کوئی اب بھی اس کا انکاری ہے تو افسوس کے علاوہ کیا کیا جاسکتا ہے ۔
گلہ عام لوگوں سے بھی کیا جاسکتا ہے جو ناواقفیت اور سادہ لوح ہونے کی وجہ سے منفی خبروں سے جلد اثر لے لیتے ہیں ۔
البتہ اس کے زیادہ قصور وار وہ افراد ہیں جو بے صبری یا سستی شہرت کی وجہ سے کسی غیر مصدقہ خبر کو پھیلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں ، جس سے لاکھوں سادہ ذہن حقیقت سے انکاری ہو کر خود کو اور دیگر لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔
کیا اس ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں ، جو ایسے مسخروں کو چیک کرسکے ؟
مسلمانوں کو تو نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت کو سامنے رکھنا چاہیے جس میں آپ نے اس شخص کو ایماندار نہیں قرار دیا جو ہر سنی سنائی بات کو آگے پھیلائے ۔
اللہ ہمیں ہدایت دے آمین ۔

ڈاکٹر سہیل اختر
سربراہ شعبہ امراض سینہ
پروفیسر آف میڈیسن
دی انڈس ہسپتال کراچی
سابق صدر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما)

وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز نے ملک میں افریقی اور برازیلی کورونا وائرس کی اقسام رپورٹ ہونے کی تصدیق کر دی، نئی اقسام کے کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے فلائٹ آپریشن محدود کر دیا گیا ہے۔ وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ افریقی اور برازیلی کورونا کی کنٹیکٹ ٹریسنگ شروع کر دی ہے لیکن وائرس کی قسم کوئی بھی ہو، ایس اوپیز پر عمل میں تحفظ ہے، ماسک پہننا یقینی بنائیں، گھر سے بلا ضرورت باہر مت نکلیں۔ سماجی فیصلے کو عمل طور پر یقینی بنائیں۔سندھ کی وزیر صحت عذرا فضل پیچوہو نے بھی تصدیق کی ہے کہ آغا خان یونیورسٹی کراچی میں لیے گئے نمونوں میں نئی اقسام کے کورونا وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔ برطانوی قسم تیزی سے پھیلتی ہے جبکہ جنوبی افریقا اور برازیلی اقسام کے وائرس سے اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ویکسین کرانے کے باوجود وائرس کی یہ قسم شہریوں کو لگ سکتی ہے۔دوسری جانب نئی اقسام کے کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے فلائٹ آپریشن محدود کر دیا گیا ہے۔ این سی او سی کی جانب سے قائم خصوصی کمیٹی بیرون ملک سے آنیوالے مسافروں سے متعلق پالیسی پر عملدآمد یقینی بنانے کی پابند ہوگی۔ معاون خصوصی ڈاکٹرفیصل کمیٹی کے سربراہ جبکہ بریگیڈیر احتشام الحق ڈائریکٹر آپریشنز ہوں گے۔ضلعی انتظامیہ، ضلعی محکمہ صحت اور تمام ائرپورٹس مینیجر بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ وزارت صحت ہیلتھ پروٹوکول، اے ایس ایف اور ایف آئی اے انتظامی معاملات دیکھنے کی پابند ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں