پاکستان کے ساتھ مثبت مذاکرات ہوئے، معمولی اختلافات پیشرفت میں رکاوٹ نہ بنیں:مولوی امیر خان متقی

کابل (بی این اے) امارت اسلامیہ کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اب تک مثبت اور تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں اور امید ہے کہ معمولی اختلافات اس عمل کی پیشرفت میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

یہ بات انہوں نے کابل میں چین کے سفیر ژاو شینگ کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی، جس میں دوطرفہ تعاون، علاقائی صورتحال اور چین کے شہر اُرمچی میں جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت امور خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا احمد تکل کے مطابق، مولوی امیر خان متقی نے افغانستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے اُرمچی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری پر چینی حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سعودی عرب، ترکی، قطر اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کو بھی سراہا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اب تک ہونے والی بات چیت حوصلہ افزا رہی ہے اور توقع ہے کہ معمولی نوعیت کی تشریحات یا اختلافات مذاکرات کے عمل کو متاثر نہیں کریں گے۔

اس موقع پر چین کے سفیر ژاو شینگ نے اُرمچی مذاکرات کے حوالے سے تازہ ترین معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے اور یہ عمل غیر جانبداری اور تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی جغرافیائی سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی، خیر سگالی اور کشیدگی سے پاک تعلقات کو فروغ دیا جائے۔

ملاقات کے اختتام پر مولوی امیر خان متقی نے واضح کیا کہ امارت اسلامیہ کا مؤقف دفاعی نوعیت کا ہے اور اپنے حدود کے تحفظ کو اپنا مسلمہ حق سمجھتی ہے، تاہم باہمی احترام اور افہام و تفہیم کی بنیاد پر مذاکرات کے تسلسل پر یقین رکھتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں