پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے 8 اضلاع میں بڑی کاروائیاں ۔ اب تک بی ایل اے کے 32 دہشت گرد ہلاک، 17 زخمی اور 11 کو زندہ گرفتار

‏پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے 8 اضلاع میں بڑی کاروائیاں ۔ اب تک بی ایل اے کے 32 دہشت گرد ہلاک، 17 زخمی اور 11 کو زندہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس بڑی کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی انٹیلیجنس اور عسکری قوت کے سامنے بیرونی بیساکھیوں پر چلنے والی دہشت گردی اب دم توڑ رہی ہے۔

یہ کاروائیاں پنجگور خاران قلات مستونگ تربت اور کوئٹہ کے علاقوں میں کی گئی ہیں ۔

سب سے اہم کاروائی کے دوران پنجگور میں بی ایل اے کا کمانڈر نذیر عرف چاکر اپنے 7 ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا۔ خاران میں ڈرونز نے لیزر گائیڈڈ حملوں کے ذریعے دہشت گردوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

گرفتار ہونے والے دہشت گردوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں افغانستان کے صوبے کنڑ اور قندھار میں قائم لانچ پیڈز سے پاکستان بھیجا گیا تھا۔

واشک اور قلات میں پکڑے گئے ٹرکوں سے افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ برآمد ہوا ہے، جو سرحد پار سے ملنے والی براہِ راست سہولت کاری کا ثبوت ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ اور عسکری ترجمان نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ بننے والے ہر ہاتھ کو توڑ دیا جائے گا۔ حالیہ ہلاکتیں بی ایل اے کے لیے ایک اسٹریٹیجک ناکامی ہیں، جس کے بعد اب انہیں افرادی قوت اور فنڈنگ دونوں محاذوں پر شدید بحران کا سامنا ہے۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف زمین پر بلکہ فضائی اور ڈیجیٹل محاذ پر بھی دشمن سے کئی قدم آگے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین کا استعمال اور بھارت کی فنڈنگ اب پاکستان کو کمزور نہیں کر سکے گی، کیونکہ ریاست نے دہشت گردی کے اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں