نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو نے ملک کیلئے میثاق جمہوریت کیا، ہم نے پی ٹی آئی دور کی تلخیاں برداشت کیں، جیل میں ملاقات سازشوں کیلئے نہیں قانونی امور کیلئے ہوتی ہے، غیر قانونی ڈیمانڈ کبھی پوری نہیں ہوگی، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرطلاعات ونشریات عطاءاللہ تارڑ نے سینیٹر عرفان الحق صدیقی مرحوم کو سیاسی، ادبی اور جمہوریت کے لئے خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹر عرفان الحق صدیقی مرحوم ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، ادب، صحافت اور سیاست کے شعبوں میں ان کی قابل قدر خدمات تاریخ کا اہم باب ہیں۔ پیر کو سینیٹر عرفان الحق صدیقی مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی کے سوگواران میں صرف ان کا خاندان نہیں بلکہ ہم بھی شامل ہیں۔ مرحوم انتہائی شفیق اور محبت کرنے والی شخصیت کے مالک تھے، ان کی رہنمائی ہمارے لئے مشعل راہ تھی۔ وزیراطلاعات نے مرحوم عرفان الحق صدیقی کی خدمات کے اعتراف میں اقدامات تجویز کرنے کے لئے کمیٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر مذموم مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عرفان صدیقی نے فرض شناسی اور خلوص کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ عرفان الحق صدیقی سے میری پہلی ملاقات ایوان صدر میں ہوئی، میں نے انہیں انتہائی محبت کرنے والا شخص پایا۔ انہوں نے کہا کہ عرفان الحق صدیقی کی آواز سن کر ہمیں حوصلہ ملتا تھا، ان کے انداز بیاں میں ایک حوصلہ تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عرفان الحق صدیقی کا انتقال صرف ان کی فیملی کا نقصان نہیں بلکہ پوری قوم کا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرفان الحق صدیقی کی بے بنیاد اور جھوٹے مقدمہ میں گرفتاری ہوئی، ہر وہ شخص جو اس گھنائونے جرم میں ملوث تھا وہ ندامت سے ان سے آنکھ نہیں ملا پایا۔ انہوں نے کہا کہ عرفان الحق صدیقی کی قربانیاں تاریخ کا حصہ بن گئی ہیں۔ جمہوریت کے لئے ان کی خدمات ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھی جائیں گی۔ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بطور سینیٹر ان کا ایوان کے اندر بڑا اہم کردار تھا۔ اطلاعات و نشریات کی کمیٹی میں ان سے ملاقات ہوتی رہی، وہ ہماری شیلڈ تھے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ سینیٹر عرفان الحق صدیقی مرحوم بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے، وہ ایک ماہر تعلیم، مصنف، دانشور اور صاحب طرز کالم نگار تھے۔ عرفان صدیقی کی تحریروں میں سنجیدگی، توازن اور فکری گہرائی نمایاں تھی۔ انہوں نے سیاست میں اصول، برداشت، تحمل اور رواداری کو فروغ دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مرحوم ایک شریف النفس، محب وطن اور شفیق استاد تھے۔ سینیٹرعرفان الحق صدیقی کی علمی، ادبی اور سیاسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ تقریب کے آخر میں سینیٹر عرفان الحق صدیقی مرحوم کے درجات کی بلندی کے لئے دعا بھی کی

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو نے ملک کے لئے میثاق جمہوریت کیا جس کے بعد سیاسی عمل بحال ہوا، ہم نے پی ٹی آئی دور کی تلخیاں برداشت کی ہیں، جیل میں ملاقات ملکی اداروں کے خلاف سازشوں کے لئے نہیں قانونی امور کے لئے ہوتی ہے، غیر قانونی ڈیمانڈ کبھی پوری نہیں ہوگی۔ پیر کو یہاں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کی تحقیق اچھی ہوتی ہے، ان کی تقاریر سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے کہ پارلیمانی عمل کو کیسے آگے بڑھانا ہے، ابھی بھی انہوں نے پاکستان کا جھنڈا اپنے سینے پر لگا رکھا ہے، ان کی بہت قدر ہے، مگر یہ سلیکٹو میموری کیوں ہے؟ علی محمد خان نے جیل میں ملاقات کا ذکر کیا مگر یہ کیوں نہیں بتایا کہ ان کے لیڈر بیرون ملک کھڑے ہو کر کہتے تھے کہ ”میں ان کا اے سی اتار دوں گا، میں نے شاہد خاقان عباسی کو جیل میں ڈالا۔“ عطاء اللہ تارڑ نے علی محمد خان کے پڑھے گئے شعر کے جواب میں شعر پڑھا ”یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا، یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں۔“ انہوں نے کہا کہ چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے کی روایت بھی ان کے دور میں ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پیپلز پارٹی سے سیاسی تلخی ضرور رہی ہے مگر اس کے باوجود محمد نواز شریف اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے مل کر میثاق جمہوریت طے کیا جس کے نتیجے میں ملک میں جمہوری عمل بحال ہوا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی دور کی تلخیاں برداشت کی ہیں، کس نے کہا تھا کہ فلاں کی بہن بیٹی کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دو؟ کس نے صبح شام گرفتاریوں کی فہرستیں طلب کیں؟ یہ وہ لوگ تھے جو بار بار جیل انتظامیہ سے پوچھتے تھے کہ کہیں کھانا تو نہیں مل گیا، کوئی دوائی تو فراہم نہیں ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج بدنام زمانہ شہزاد اکبر یہاں موجود نہیں ہے، ہم اس وقت بھی کہتے تھے کہ ایسے افراد نے سیاسی ماحول میں شدید تلخیاں پیدا کی ہیں اور یہی لوگ سب سے پہلے ملک سے فرار ہوں گے جبکہ سختیاں دوسروں کو برداشت کرنا پڑیں گی اور آج یہ بات سچ ثابت ہو رہی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب یہ لوگ تلخیوں کو ہوا دے رہے تھے اور پارلیمنٹ کے ادارے پر حملہ آور ہوئے تو اس دوران اپوزیشن کی پوری صف جیلوں میں بند تھی جبکہ وزیراعظم ہائوس کے اندر روزانہ اجلاس ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں ملاقات کا مقصد قانونی مشاورت ہوتا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ افواج پاکستان کے خلاف بات کرنے والوں کو تھپکی دی جائے، نہ ہی اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ملکی اداروں کو بھارت کے ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر بدنام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں ملاقات اس لئے نہیں ہوتی کہ شہداء کی تضحیک کی جائے یا سوشل میڈیا پر فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف مہم چلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں ملاقات کا مینوئل موجود ہے، اس لئے غیر قانونی ڈیمانڈ کبھی پوری نہیں ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں