حقوق تحصیل سرکل بکوٹ خیبر پختونخواہ کی عوام رات سے سڑک پر موجود، کوہالہ اسلام آباد سڑک ہر طرح کی ٹریفک کیلئے مکمل بند، گزشتہ رات حکومت خیبر پختونخواہ کی جانب سے ہونے والے تمام مزاکرات ناکام ہوئے تھے، تاحال عوام کا اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج دوسرے روز بھی بھی جاری ہے، جبکہ کوہالہ پل انٹری پوائنٹ کی دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں موجود ہیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کور کمیٹی عوامی حقوق سرکل بکوٹ کا احتجاجی دھرنا جاری کوہالہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لئےدوسرے روز بھی مکمل بندکوہالہ کے نزدیک تحریک حقوق بکوٹ سرکل کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری ہے، جس کے باعث مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ، جہلم ویلی اور نیلم ویلی جانے والی مرکزی شاہراہ مسلسل 24 گھنٹوں سے مکمل طور پر بند ہے۔
ضلع ایبٹ آباد کی حدود میں ہونے والے اس احتجاج نے ہزاروں مسافروں کو اذیت ناک صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔
ذرائع کے مطابق شدید ٹھٹھرتی سردی میں مرد، خواتین، بچے اور بزرگ افراد نے رات گاڑیوں میں جاگ کر گزاری ۔ جن کے پاس نہ مناسب خوراک ہے، نہ گرم لباس، نہ آرام کا کوئی انتظام۔ گزشتہ رات دس بجے سے اپنے معصوم بچوں اور فیملی کے ہمراہ بند ٹریفک میں پھنسے جہلم ویلی سے تعلق رکھنے والے کونسلر دانیال مظفرخان کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت نقطۂ انجماد کے قریب ہونے کے باوجود مظاہرین انسانی ہمدردی کا لمحہ بھر بھی فکر نہیں کررہے۔
مسافروں نے شکوہ کیا کہ ’’احتجاج کرنے والوں نے علاقائی حق کے نام پر پورے خطے کے لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ 24گھنٹے گزرنے کے باوجود ایبٹ آباد کی حدود میں انتظامی مشینری اور ضلعی قیادت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ مقامی انتظامیہ ہنگامی بنیادوں پر کوئی متبادل راستہ فراہم نہ کرسکی، نہ ہی مذاکرات کے ذریعے شاہراہ کھلوانے کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے آئی۔ سب سے بڑھ کر اس حلقے سے منتخب کے پی کے اسمبلی کے ارکان بھی مسلسل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں،
مسافروں نے حکومتی و انتظامی رویے کی چشم پوشی سے تنگ آکر جی او سی مری سے مطالبہ ہے کہ فوری مداخلت کرکے لوگوں کو اذیت سے نکالا جائے اور شاہراہ کھلوائی جائے۔
Deputy Commissioner Abbottabad