پاکستان اعلانیہ کارروائی کرتا ہے اور شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا افغان طالبان کے الزام پر پاک فوج کا بھرپور جواب
گزشتہ دن افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر سرحد پار کارروائیوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کے بعد پاک فوج نے واضح اور دو ٹوک مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نہ صرف اعلانیہ کارروائیاں کرتا ہے بلکہ کسی بھی صورت میں بےگناہ شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشتگردوں اور ان کے ٹھکانوں تک محدود ہوتی ہیں
ان کے مطابق پاکستان کی ریاست دہشتگردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتی ہے اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی
انہوں نے مذید کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہش مند ہے لیکن افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا
ان کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ زمینی حقائق اور شواہد کے بھی خلاف ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کرے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہر کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ریاستی ادارے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی مکمل پابندی کرتے ہیں جبکہ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کی قربانیاں پوری دنیا تسلیم کرتی ہے
واضع رہے کہ افغان طالبان نے پاکستان میں خود کش حملوں کی دھمکی دی ہے اور گزشتہ رات ذبح اللہ مجاھد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں بمباری کی ہے
ڈی جی ائی ایس پی ار کی میڈیا کو بریفنگ
سال 2025 میں 67٫023 انٹیلیجنس بیسڈ اپریشن کیے گئے۔
ایک سال کے دوران کے پی کے میں کل 12857 ہاں جی اپریشنز کیے گئے
سال 2025 میں بلوچستان میں 53 ہزار 309 اپریشنز کیے گئے
سال بھر میں 857 اپریشنز ملک کے دیگر علاقوں میں کیے گئے۔
اپریشنز کے نتیجے میں 1873 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے
چار نومبر سے اب تک کُل 4910 انٹیلیجنس بیسڈ اپریشن کیے گئے
خیبر پختون خواہ میں 1387 اپریشنز کیے گئے
بلوچستان میں 3485 اپریشنز کیے گئے
38 اپریشن ملک کے دیگر علاقوں میں کیے گئے۔
انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے نتیجے میں نومبر میں 22 ارمی کے افسران اور جوان شہید ہوئے۔
اپریشنز میں 11 دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ، 22 سوہلینز شہید ہوئے
وانا کیڈٹ کالج ایف سی ہیڈ کوارٹر اور اسلام اباد کچہری حملوں میں افغان نیشنلز ملوث ہیں۔
ہماری نظر میں کوئی دہشتگرد گڈ نہیں ہے
ہمارے سامنے گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں ہے
بندوق کے زور پر اپنی رائے مسلط کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی
دہشت گرد چاہے کوئی بھی ہو قابل قبول نہیں
سیاسی جماعتوں میں بیٹھے لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے بیانیہ بناتے ہیں۔
ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے دہشت گرد افغانستان سے تیرہ کے راستے ائے
ارمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے بھی اسی روٹ سے پاکستان ائے تھے
وادی تیرہ میں دہشت گردی کے خطرات بہت سنجیدہ نوعیت کے ہیں
تیرا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وجہ کریمنل ٹیرر نیکسس ہے
ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے لیے سیاسی سپیس کی ضرورت ہے
سیاسی حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے لیے سپیس مہیا کرے تو دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے
وادی تیرہ میں ماضی میں دہشت گردی کے خلاف اپریشن کیے جاتے رہے ہیں
سیکیورٹی فورسز اس سے قبل بھی وادی تیرہ کو کلیئر کر چکی ہیں
لوادی تیرہ سیاسی حکومت کے حوالے کی جاتی ہے تو دہشت گردی پھر شروع ہو جاتی ہے
کسی بھی ایڈونچر کا جواب پہلے سے زیادہ شدت سے دیا جائے گا۔
وادی تیرہ میں 12ہزار ایکڑ زمین پر بھنگ کی کاشت کی جاتی رہی ہے
تیرا میں بھنگ کاش کر کے اسے چرس میں تبدیل کیا جاتا اور فروخت کیا جاتا ہے
تیرا میں لگنے والی منشیات کی منڈی کو سیاسی اور انتظامی سپورٹ حاصل ہے
چیف اف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی ملٹری سٹریٹجی اور ملکی دفاع کو بہتر بنانے کے لیے ہے
سی ڈی ایف کے عہدے کی وجہ سے دیگر سروسز کی ازادی اور خود مختاری پر کوئی حرف نہیں ائے گا
وائس چیف کے عہدے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن حتمی فیصلہ حکومت کرے گی
فوج حکومت کا ادارہ ہے اور حکومت کی پالیسی کے مطابق کام کرتا ہے
اس وقت کی حکومت یہ بیانیہ رکھتی تھی کہ دہشت گردوں سے بات چیت کرنی چاہیے
اسی سیاسی جماعت کے ارکان اج بھی دہشت گردوں سے بات کرنے کے بیانیے کا پرچار کرتے ہیں
جنرل باجوا ہو یا جنرل فیض اس وقت کی حکومت کے کہنے پر کام کر رہے تھے