ڈی جی ائی ایس پی ار کی میڈیا کو بریفنگ اس سال میں 67٫023 انٹیلیجنس بیسڈ اپریشن 1873 دہشت گرد مارے گئے دہشت گرد چاہے کوئی بھی ہو قابل قبول نہیں

پاکستان اعلانیہ کارروائی کرتا ہے اور شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا افغان طالبان کے الزام پر پاک فوج کا بھرپور جواب

گزشتہ دن افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر سرحد پار کارروائیوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کے بعد پاک فوج نے واضح اور دو ٹوک مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نہ صرف اعلانیہ کارروائیاں کرتا ہے بلکہ کسی بھی صورت میں بےگناہ شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشتگردوں اور ان کے ٹھکانوں تک محدود ہوتی ہیں
ان کے مطابق پاکستان کی ریاست دہشتگردوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتی ہے اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی

انہوں نے مذید کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہش مند ہے لیکن افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا
ان کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ زمینی حقائق اور شواہد کے بھی خلاف ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کرے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہر کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ریاستی ادارے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی مکمل پابندی کرتے ہیں جبکہ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کی قربانیاں پوری دنیا تسلیم کرتی ہے
واضع رہے کہ افغان طالبان نے پاکستان میں خود کش حملوں کی دھمکی دی ہے اور گزشتہ رات ذبح اللہ مجاھد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں بمباری کی ہے

ڈی جی ائی ایس پی ار کی میڈیا کو بریفنگ

سال 2025 میں 67٫023 انٹیلیجنس بیسڈ اپریشن کیے گئے۔

ایک سال کے دوران کے پی کے میں کل 12857 ہاں جی اپریشنز کیے گئے

سال 2025 میں بلوچستان میں 53 ہزار 309 اپریشنز کیے گئے

سال بھر میں 857 اپریشنز ملک کے دیگر علاقوں میں کیے گئے۔

اپریشنز کے نتیجے میں 1873 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے

چار نومبر سے اب تک کُل 4910 انٹیلیجنس بیسڈ اپریشن کیے گئے

خیبر پختون خواہ میں 1387 اپریشنز کیے گئے

بلوچستان میں 3485 اپریشنز کیے گئے

38 اپریشن ملک کے دیگر علاقوں میں کیے گئے۔

انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے نتیجے میں نومبر میں 22 ارمی کے افسران اور جوان شہید ہوئے۔

اپریشنز میں 11 دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ، 22 سوہلینز شہید ہوئے

وانا کیڈٹ کالج ایف سی ہیڈ کوارٹر اور اسلام اباد کچہری حملوں میں افغان نیشنلز ملوث ہیں۔

ہماری نظر میں کوئی دہشتگرد گڈ نہیں ہے

ہمارے سامنے گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں ہے

بندوق کے زور پر اپنی رائے مسلط کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی

دہشت گرد چاہے کوئی بھی ہو قابل قبول نہیں

سیاسی جماعتوں میں بیٹھے لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے بیانیہ بناتے ہیں۔

ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے دہشت گرد افغانستان سے تیرہ کے راستے ائے

ارمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے بھی اسی روٹ سے پاکستان ائے تھے

وادی تیرہ میں دہشت گردی کے خطرات بہت سنجیدہ نوعیت کے ہیں

تیرا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وجہ کریمنل ٹیرر نیکسس ہے

ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے لیے سیاسی سپیس کی ضرورت ہے

سیاسی حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے لیے سپیس مہیا کرے تو دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے

وادی تیرہ میں ماضی میں دہشت گردی کے خلاف اپریشن کیے جاتے رہے ہیں

سیکیورٹی فورسز اس سے قبل بھی وادی تیرہ کو کلیئر کر چکی ہیں

لوادی تیرہ سیاسی حکومت کے حوالے کی جاتی ہے تو دہشت گردی پھر شروع ہو جاتی ہے

کسی بھی ایڈونچر کا جواب پہلے سے زیادہ شدت سے دیا جائے گا۔

وادی تیرہ میں 12ہزار ایکڑ زمین پر بھنگ کی کاشت کی جاتی رہی ہے

تیرا میں بھنگ کاش کر کے اسے چرس میں تبدیل کیا جاتا اور فروخت کیا جاتا ہے

تیرا میں لگنے والی منشیات کی منڈی کو سیاسی اور انتظامی سپورٹ حاصل ہے

چیف اف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی ملٹری سٹریٹجی اور ملکی دفاع کو بہتر بنانے کے لیے ہے

سی ڈی ایف کے عہدے کی وجہ سے دیگر سروسز کی ازادی اور خود مختاری پر کوئی حرف نہیں ائے گا

وائس چیف کے عہدے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن حتمی فیصلہ حکومت کرے گی

فوج حکومت کا ادارہ ہے اور حکومت کی پالیسی کے مطابق کام کرتا ہے

اس وقت کی حکومت یہ بیانیہ رکھتی تھی کہ دہشت گردوں سے بات چیت کرنی چاہیے

اسی سیاسی جماعت کے ارکان اج بھی دہشت گردوں سے بات کرنے کے بیانیے کا پرچار کرتے ہیں

جنرل باجوا ہو یا جنرل فیض اس وقت کی حکومت کے کہنے پر کام کر رہے تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں