338

ہم ٹی وی کے اینکروں نے عدلیہ مخالف مہم شروع کردی صارفین نے دونوں اینکروں کو آڑے ہاتھوں لے لیا

سوشل میڈیا پر مختلف ٹیمیں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی  کے خلاف صدارتی ریفرینس  ختم ہونے اور اس کے بعد نظر ثانی کی اپیلیں منظور ہونے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف مہم چلارہی ہیں 

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سابق وزیر داخلہ بیرسٹر اعتزاز احسن الیکٹرانک میڈیا پر سب سے زیادہ متحرک ہیں 

سوشل میڈیا پر ہم ٹی وی کے مارننگ شو کے دونوں اینکر بہت شدت سے مہم چلارہے ہیں 

ایک سیاسی جماعت پی ٹی آئی کی ورکر شفا یوسف زنی مسلسل قاضی فائز عیسی کے خلاف مہم چلارہی ہیں 

نظرثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے چار دن گزر جانے کے باوجود وہ قاضی فائز عیسی کے خلاف مسلسل ٹویٹ اور ری ٹویٹ کرنے میں مصروف ہیں انہوں نے جمعرات کو ٹویٹ کئے

‏ “دونوں وزیر اعظم عمران خان پر اگر الزام لگا ہے تو وہ بھی جواب دیں اور اگر کسی جج پر کوئی الزام لگے تو وہ بھی جواب دیں ۔۔۔ 

وزیر اعظم صاحب آپ سے التجا ہے حضرت عمر فاروق رض والا احتساب کریں کیونکہ ہمارے مذہب نے سارے precedent سیٹ کئے ہوئے ہیں ان مثالوں پر عمل درآمد کروائیے۔ 🙏 ”

” ‏کیا ہمارےقاضی صاحبان حضرت عمر رض سےبڑےخلیفہ یاقاضی ہیں؟جب انسےایک عام آدمی پوچھتا ہے کہ آپکے پاس دوسری چادرکیسےآئی اوروہ جواب دیتےہیں تویہ جج صاحبان کیسےجوابدہ نہیں؟اور اگر جج سےکچھ پوچھانہیں جاسکتا تو ایک بشیر میمن کے الزام پر وزیر اعظم کیوں جواب دے؟کیا عجیب منافقت لگائی ہوئی ہے ” 

شفا یوسف زنی کے متعصبانہ ٹویٹ پر صارفین نے انہوں آڑے ہاتھوں لیا پشاور کے نامور صحافی محمود جان بابر نے کہا “‏‎خلفا کے قصے صرف اپنے اپنے کیس کے لئے ہی رکھے ہیں ورنہ ان خلفا نے تو انصاف کی جو مثالیں قائم کی تھیں اس طرف کوئی آتا ہی نہیں۔ وہ خلافت سے پہلے دولت مند بادشاہ ہوا کرتے تھے اور خلافت ملتے ہی فقیر ہوجاتے تھے ہر کسی کو کچھ بھی پوچھنے کا حق تھا۔ یہاں فوجی اور جج دونوں ان ٹچ ایبل ہیں۔ ” 

ایک اور صارف وطن یار  نے تبصرہ کیا کہ “‏‎‎اگر یہ الزامات نوازشریف پہ لگتے تو عمران خان کیا کرتے اس وقت تو ریاست مدینہ بھی مثال ہوتی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی کی مثال بھی ہوتی یورپ برطانیہ جاپان کی بھی ہوتی عمران خان شہزاد اکبر فروغ نسیم کو استعفی دینا چاہیئے اور سپریم کورٹ کو پناما کیس کی طرح کاروائی کرنا چاہیئے ”  ایک اور صارف کی رائے تھی “‏‎علیمہ نیازی اور باجوا نے کون سے جواب دیے ہیں ہیں قاضی صاحب تو سپریم کورٹ سے سرخرو ہوئے ہیں . باقی ان کے خلاف سازش کا بھانڈا بشیر مین نے پھوڑ دیا ہے ” 

شفا یوسف زنی کے ساتھی اینکر اویس منگل والا  بھی قاضی فائز عیسی کے خلاف مہم مئں پیچھے نہیں رہے بلکہ انہوں نے بھی ٹویٹ کیا 

” ‏بندے کو جج ہونا چاہیے. نہ کوئی آپ سے سوال پوچھ سکے، نہ کسی قسم کا کوئی حساب دینا پڑے!! پرسکون زندگی. ” 

ہم ٹی وی کے اینکروں نے عدلیہ مخالف مہم شروع کردی سینئر صحافیوں اور صارفین نے دونوں اینکروں کو آڑے ہاتھوں لے لیا

ان کا ٹویٹ بھی ہم ٹی وی کے مارننگ میزبانوں کی عدلیہ مخالف مہم کا حصہ ہے ان کی بھی سوشل میڈیا پر درگت بنی ڈان کے سابق ایڈیٹر عباس ناصر  ممتاز  خاتون جرنلسٹ عافیہ اسلم اور محمود جان بابر  نے اویس منگل والا کو کھری کھری سنادیں  

عباس ناصر نے لکھا کہ ” اینکر اور بھی زیادہ جج کے لئے تھوڑی بہت تعلیم ضروری ہوتی ہے اینکر ہونے کے لئے ایسی کوئی قید نہیں اور، اللہ نہ کرے کبھی ہو ” 

 شفا یوسفزئی نے عدلیہ کی توہین کا بھی ایک ٹویٹ بھی ری ٹویٹ کیا 

نامعلوم مقام سے ہدایت اور مضامین لینے والوں میں شفا یوسف زنی کا بھی نمایاں نام ہے دو خواتین کالم نگاروں کی جانب سے ایک ہی دن دو مختلف اداروں میں ایک ہی مضمون شائع ہوا جن میں ایک نام شفا یوسف زنی کا بھی تھا 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں