53

پہلے ووٹ چوری ہوتے تھے* *2018 کے الیکشن میں بکسے چوری ہوئے* *اب 2021 کے ضمنی الیکشن میں پورا کا پورا عملہ بیمہ ووٹ بکسے سمیت چوری ہوگیا

*پہلے ووٹ چوری ہوتے تھے*
*2018 کے الیکشن میں بکسے چوری ہوئے*
*اب 2021 کے ضمنی الیکشن میں پورا کا پورا عملہ بیمہ ووٹ بکسے سمیت چوری ہوگیا
*

*جعلی بیلٹ کا بھی سنا تھا*
*ووٹ چوری ہونے کا بھی سنا تھا*
*بکسے چوری ہونے کا بھی سنا تھا*
*اب 2021 میں کیونکہ تبدیلی آ چکی ہے پورے کا پورا عملہ اپنے سامان سمیت چوری ہو گیا*

*جتنی محنت پاکستان تحریک انصاف نے پولیس کو الیکشن عملے کو استعمال کرنے افراتفری مچانے فائرنگ کرنے میں لوگوں کو زدکوب کرنے میں لگائی ہے اگر صرف یہی کارکردگی دکھاتے تو اتنا کچھ نہ کرنا پڑتا*

*‏سارا دن پولنگ سٹیشنز پہ حکومتی بد معاشی کے مناظر عوام نے دیکھے.سارا دن ناکامی کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ پولنگ سٹیشنز کا عملہ لا پتہ کردیا گیا*
*پولنگ ایجنٹس پولنگ بیگ سمیت لا پتہ ہوگئے*
*الیکشن کمیشن کا اپنا پولنگ کا عملہ الیکشن کمیشن کی پہنچ سے دور ہے*

*‏تاریخ میں پہلی دفعہ صرف ووٹ نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا عملہ بھی چوری ہوگیا ہے*
*دھند کو وجہ بنا کر ڈسکہ NA 75 کے حتمی نتیجہ میں دانستہ تاخیر قابل مذمت اور شرمناک ہے*
*تمام دن حکومتی فائرنگ اور غنڈہ گردی سے پولنگ کے عمل کو روکنے کی کوشش جاری رہی*

*سیالکوٹ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں گزشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج ریٹرنگ آفیسر نے روک دیئے ہیں۔*
*ریٹرنگ آفیسر کے مطابق حتمی نتیجے کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان کرے گا۔*

*گزشتہ رات 23 پولنگ اسٹیشنز کا عملہ مبینہ طور پر غائب رہا، جو صبح ریٹرننگ آفیسر کے دفتر پہنچا۔*
*اس سے قبل اس حلقے کے کل 360 میں سے 337 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ نون کی سیدہ نوشین افتخار 97 ہزار 588 ووٹ لے کر آگے تھیں۔*

*پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی اسجد ملھی 94 ہزار 541 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔*

*حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جن 23 پولنگ اسٹیشن پر لوگوں نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا وہاں ووٹوں کا ٹرن آؤٹ 90 فیصد رہا*

*‏‎محکمہ زراعت کی کرامات اغوا ہونے والے پولنگ سٹاف کے پاس ووٹنگ ٹرن آوٹ 90% اور اعلان شدہ 340پولنگ اسٹیشن کا ٹرن آؤٹ صرف 35%*

*وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی معاونِ خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی آر او آفس میں موجود ہیں*

صوبائی وزیراطلاعات وبلدیات سید ناصرحسین شاہ نے کہا ہے کہ چاروں صوبوں کے ضمنی انتخابات میں پی ڈی ایم جماعتوں کی واضح اکثریت حکومت کے خلاف عوامی ریفرینڈم ہے۔حکمرانوں کی نااہلی نالائقی اوراقرباپروری نے عوام کاجینا عذاب بنادیا ہے۔ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست خان صاحب کے لئے خاموش پیغام ہے کہ وہ اب گھرجائیں۔ ایک بیان میں صوبائی وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے شیرو دن بھرامن وامان کوخراب کرکے عوام کوپولنگ اسٹیشن آنے سے روکتے رہے۔ صوبائی حکومتیں بھی یوتھیوں کے آگے بے بس نظرآئیں۔سید ناصرحسین شاہ نے کہا کہ انشااللہ مارچ میں بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں عوام کو سلیکٹیڈ حکمرانوں سے نجات دلائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں پولیس بااختیاراور آزاد ہے اگرکسی نے قانون شکنی کی ہے توبھگتے ،ہم پی ٹی آئی کے کم ظرف حکمراں نہیں جو اداروں کواپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کریں۔پیپلزپارٹی نے ہمیشہ اداروں کااحترام کیا ہے پی ٹی آئی بھی کرے۔وفاق نے نیب اور دیگر اداروں کواپوزیشن کے خلاف استعمال کیا۔خان صاحب اوراس کے حلیم عادل سیاستدان نہیں اداکار اور بد زبان زیادہ ہیں۔حلیم عادل شیخ کی اتنی اوقات نہیں کہ بلاول بھٹو ان کے بارے میں سوچیں۔حلیم عادل مسلسل بد زبانی کرکے چیئرمین پیپلزپارٹی اوروزیراعلی سندھ پربے بنیاد الزام لگارہے ہیں۔سید ناصرحسین شاہ نے کہا کہ اگرقیادت منع نہیں کرتی تو جیالے جواب دینا جانتے ہیں۔سید ناصرحسین شاہ نے کہا کہ حلیم عادل کوروزانہ میڈیا پر آکر بدزبانی کرنی ہوتی ہے جیل میں ہونے کی وجہ سے اس کے پیٹ میں مروڑ ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ تعمیری سوچ اورسیاست پی ٹی آئی والوں کے قریب سے نہیں گذری۔سندھ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے، ہماری تمام توجہ عوام کی خدمت کی طرف ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں