80

سینیڑ مشاہد اللہ خان ; سیاست دانوں کی اس قبیل کے نمائندے تھے اقتدار کی غلام گردشوں میں گزارنے کے باوجودکسی مالی کرپشن کے الزام کے بغیر دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تحریر پیرزادہ ثاقب خورشید عالم

مشاہد اللہ خان بھی رخصت ہو گئے …….
تحریر پیرزادہ محمد ثاقب خورشید عالم
1953 میں پیداہونے والے مشاہد اللہ خان کے والدین مراد آباد سے ہجرت کرکے آئے تھے۔اس لیے لہجے میں روہیل کھنڈ کی کھنک اور الفاظ میں اردو کی چاشنی تھی۔تعلیم کی ابتدا اسلامی ہائی اسکول راولپنڈی سے ہوئی اور اختتام گورڈن کالج سے۔ والد اور والدہ دونوں جماعت اسلامی کے رکن تھے اس لیے دوران طالب علمی اسلامی جمعیت طلبہ سے وابسطہ ہو گئے۔اگلے ڈھائی عشرے راولپنڈی کی سیاست میں جماعت اسلامی کا چہرہ رہے۔ (انکے بعد انکے دو بھائی بھی جمعیت گارڈن کالج میں جمعیت کے ناظم اور یونین کے صدر رہے)
کسب معاش کے لیے پی آئی اے میں ملازمت کی تو وہاں بھی جماعت اسلامی کی ٹریڈ یونین “پیاسی” میں شامل ہوئے اور اُس کی صدارت تک پہنچے۔ نوے کی دھائی میں “پیاسی “ کو چھوڑا کر “ائیرلیگ “ کی بنیاد رکھی اور بانی صدر بنے۔پھر سیاست کے میدان میں میاں نواز شریف سے وفا نبہانے والوں میں سب سے نمایاں چہرہ رہے۔

میاں نواز شریف کی کابینہ کے اہم رکن کی حیثیت سے بی بی سی کو آن کیمرہ انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ اسلام آباد میں تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے دوران پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے ایک سازش تیار کی تھی جس کے ذریعے وہ فوجی اور سول قیادت کو ہٹا کر ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔
مشاہد اللہ خان کے بقول اس سازش کا انکشاف اس وقت ہوا جب پاکستان کے سویلین انٹیلی جنس ادارے انٹیلی جنس بیورو نے لیفٹینٹ جنرل ظہیر الاسلام عباسی کی ٹیلی فونک گفتگو ٹیپ کی جس میں وہ مختلف لوگوں کو ہدایات دے رہے تھے کہ دھرنے کے دوران کس طرح افراتفری پھیلانی ہے اور وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرنا ہے۔
افسوس مشاہد اللہ خان کی جرات کو میاں نواز شریف سہارا نہ دےسکے اور فوج کے دباو پر مسلم لیگ ن نے انہیں جھوٹا قرار دے کر وزارت سے ہٹا دیا تھا۔

آپ سیاست دانوں کی اس قبیل کے نمائندے تھے جو تمام عمر اقتدار کی غلام گردشوں میں گزارنے کے باوجودکسی مالی کرپشن کے الزام کے بغیر دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔

رب مغفرت فرمائے۔ اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں