48

کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے لینڈ اسکینڈل کا انکشاف

*کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے لینڈ اسکینڈل کا انکشاف*

مقدمے کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ *کے ڈی اے کے پاس اسکیم 36 کی 2000 ایکڑ اراضی کی لیز کا اختیار ہی نہ تھا* اسکیم 36 پر کراچی کا اہم ترین علاقہ گلستان جوہر اور دیگر علاقے آباد ہیں

اس انکشاف کے بعد کے ڈے اے نے بلڈرز ، اداروں اور افراد کو زمین کیسے فروخت کی؟ قانونی سوال پیدا ہو گیا

یہ انکشافات سندھ ہائیکورٹ میں دائر مقدمہ نمبر 2137/2020 میں سامنے آئے

*عدالت نے فلک ناز سمفونی کو بکنگ سے روک دیا ہےاور معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ناظر کا تقرر کر دیا*.

سندھ ہائی کورٹ نے بورڈ آف ریونیو ، ڈپٹی کمشنر ایسٹ کراچی ،مختار کار گلشن اقبال اور کے ڈی اے حکام کو 16 فروری کو طلب کر لیا ہے

ملٹری اسٹیٹ آفیسر ، فیصل کنٹونمنٹ بورڈ اور کے کے بلڈرز سے بھی جواب طلب کر لیا گیا ہے

عدالت نے فریقین سے قانونی دستاویزات بھی طلب کر لیں

عدالت میں دائر درخواست اور دستیاب دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ کے ڈی اے نے دیگر کے ساتھ ملٹری اسٹیٹ آفس کو بھی زمین فروخت کی ،جس کی لیز ہی نہیں تھی

ملٹری اسٹیٹ آفس نے زرعی زمین کے بدلے کے کے بلڈرز کو زمین دے دی جس کے بعد فیصل کنٹونمنٹ بورڈ نے بلڈرز کو زرعی زمین پر کمرشل پلازے اور شاپنگ مال تعمیرکرنے کی بھی اجازت دی گئی

دائر درخواست کے مطابق گلستان جوہر میں منیر میگا مال، روفی شاپنگ مال اور بلیز پروجیکٹ متنازع اراضی پر تعمیر شدہ ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ فلک ناز سمفونی ( Symphony ) بھی متنازع زمین پر تعمیر ہو رہا ہے

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کے ڈی اے اسکیم 36 کے لیے زمین 1978 میں مختص کی گئی تھی تاہم کے ڈی اے نے حکومت سندھ کو مطلوبہ رقم ادا نہیں کی

عدم ادائیگی پر کے ڈی اے کو زمین حوالے نہیں کی گئی

عدالت نے حکم دیا کہ فریقین ٹائٹل دستاویزات کے ساتھ 16 فروری کو ناظر کے پاس پیش ہوں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں