55

دو مقدمات میں پولیس اہلکار سمیت 8 گواہان نے ذوالفقار مرزا سمیت 40 سے زائد ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کردیا

انسداد دہشت گردی عدالت

پانچ سال گُزر گئے مجھے تو اب ملزمان ہی یاد نہیں، پولیس اہلکار زولفقار مرزا کو بھول گئے

سابق وزیر ذوالفقار مرزا و دیگر کے خلاف بدین میں درج مقدمات میں اہم پیش رفت

پولیس کی جانب سے زبردستی بیان لینے کا انکشاف

دو مقدمات میں پولیس اہلکار سمیت 8 گواہان نے ذوالفقار مرزا سمیت 40 سے زائد ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کردیا

دو مقدمات میں 7گواہان نے پولیس کی جانب سےزبردستی بیان لینے کا انکشاف کردیا

مقدمہ میں نامزد 7چشم دید گواہان نے اپنے بیانات قلمبند کروا دئیے

آپ کٹہرے میں کھڑے ملزمان کو شناخت کرسکتے ہیں سروکیل کا گواہان سے استفسار

گواہان نےملزمان ذوالفقار مرزا ودیگر کو شناخت کرنے سے انکار کردیا

نہیں ہم ان ملزمان کو نہیں پہچانتے گواہان کا بیان

وقوعہ والے روز ہم بدین شہر کے بازارمیں مذدوری کررہے تھے گواہان کا بیان

اچانک بازار میں بھگڈر مچ گئی گواہان کا بیان

کمرہ عدالت میں موجود ملزمان نے مئی 2015میں بدین میں ہنگامہ آرائی اور پولیس حملہ کیا تھا پراسیکیوٹر کا استفسار

اپ لوگوں کی جانب سےپولیس کو دئیے گئے بیان میں یہ بتایا گیا تھا پبلک پراسیکیوٹر کا گواہان سے استفسار

پولیس نے زبردستی بیان پر دستخط کرائے ہم نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا گواہان عدالت میں بیان

ذوالفقار مرزا اور ان کے ساتھیوں نے بازار میں فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کی اپ کہتے ہیں کچھ نہیں ہوا پراسیکیوٹر کا گواہان سے استفسار

بازار میں فائرنگ نہیں کی گئی اور نہ ہم۔ نے فائرنگ کی آواز سنی گواہان کا بیان

جلاؤ گھیراو کیا گیا بازار میں لیکن کمرہ عدالت میں موجود ملزمان نے نہیں کیا گواہان کا بیان

پولیس اہلکار طارق نے ذوالفقار مرزا ودیگر کو شناخت کرنے سے انکار کردیا

پانچ سال گزر گئے مجھے تو ملزمان بھی یاد نہیں پولیس اہلکار طارق کا بیان

عدالت گواہان بیان قلمبند کرنے کے بعد مزید گواہان کو طلب کرلیا

سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں