سانگھڑ شھدادپور پولیس کی حراست میں مبینہ تشدد کے دوران جانبحق ہونے والے ہیڈ ماسٹر جام عزیز کے ورثائ کا لاش رکھ کر شھدادپور ہالا چوک پر احتجاجی دھرنا فوری ملوث ایس ایچ او اور اہلکاروں کیخلاف کاروائی کی جائے
سانگھڑ شہدادپور پولیس حراست میں پرائمری استاد پرُاسرار طور پر جاں بحق ہوگیا۔ ورثاء کا الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں نے استاد کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا۔
محمدی ٹاؤن کے رہائشی ریاض عرف ندیم میتلو سے دو کروڑ روپے بھتہ طلب کرنے کے مقدمے میں بخاری پاڑے کے شہری جام عزیز جکھرو کو پولیس نے تفتیش کے لیے تھانے طلب کیا، جہاں وہ مبینہ طور پر پولیس تشدد کے باعث دم توڑ گیا۔ ذرائع کے مطابق جام عزیز کی موت کے بعد پولیس اہلکار لاش کو خفیہ طور پر سِمس اسپتال میں چھوڑ کر موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی متوفی کے لواحقین بڑی تعداد میں اسپتال پہنچ گئے اور سخت احتجاج کیا۔
جاں بحق استاد کے بھائی حیدر جکھرو نے الزام عائد کیا کہ ایس ایچ او نے ان کے بھائی کی رہائی کے عوض رشوت طلب کی تھی، اور رقم نہ دینے پر اسے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔
ورثاء کا کہنا ہے کہ جام عزیز بے گناہ تھا اور ایک سرکاری اسکول میں ہیڈماسٹر کے عہدے پر فائز تھا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس واقعے میں میتلو برادری کے چند افراد بھی ملوث ہیں۔
ورثاء نے آئی جی سندھ اور اعلیٰ پولیس حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔