آزاد کشمیر میں امن وامان بحال ہوگیا حکومت پاکستان،آزاد کشمیر حکومت اور جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان تحریری معاہدہ طے پاگیا،مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان کیلئے آزاد قانون ساز اسمبلی میں مختص 12 نشتوں کے خاتمے اور اشرافیہ کی مراعات میں کمی کا جائزہ کا طریقہ کار طے کرنے کیلئے جموں وکشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے 2نمائندوں سمیت وفاقی اور آزاد کشمیر کے 4 وزراء پر مشتمل 6 اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔سہہ فریقی معاہدے پر مرحلہ وار عملدرآمد کیلئے کمیٹی کا اجلاس یر پندرہ روز کے بعد ہوگا۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا وزیراعظم پاکستان میآں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے رانا ثناءاللہ،سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف،وفاقی وزراء احسن اقبال، طارق فضل چوہدری ،امیر مقام،چوہدری یوسف،قمر زمان کائرہ،اور سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان پر مشتمل قائم کی گئی کمیٹی نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے ذریعے کشمیریوں کے دل جیت لیئے معاہدے کے تحت 12 مہاجر ممبران کے ترقیاتی فنڈز ختم کرنے ،8 مہاجر وزراء سے وزارتیں واپس لینے آزاد کشمیر کابینہ وزراء تعداد 36 سے کم کرکے 20 کرنے 32 محکموں کی تعداد کم کر کے 20 کا فیصلہ کیا گیا ۔دو وفاقی وزراء ، دو آزادکشمیر کے وزراء اور دو ایکشن کمیٹی کے ممبران پر مشتمل 6 رکنی اعلان سطحی کمیٹی،12 مہاجر سیٹوں،اشرافیہ میں شامل ججز ، سابق صدور، وزرائے اعظم، وزراء ، ممبران اسمبلی کی پنشن اور سرکاری افسران کو حاصل مراعات میں کمی اور خاتمے سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گی۔ یہ کمیٹی حکومت آزادکشمیر پر مکمل مانیٹرنگ کا کام کرتے ہوئے اس معاہدے پر جائزہ لینے اور عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے ہر 15 دن بعد اجلاس کرے گی۔ معاہدے کے تحت یکم اور 2 اکتوبر کے دوران شہید ہونے والے افراد کے ورثاء کو شہداء پیکیج کے تحت انتہائی معقول مالی امداد، فی کس خاندان کو ایک سرکاری ملازمت اور زخمیوں کو فی کس 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ تمام ادائیگیاں اور ملازمتیں 20 دن میں فراہم کی جائیں گی۔ جانی نقصان اور تشدد کے ذمہ داران کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج ہوں گی، ضرورت پڑنے پر عدالتی کمیشن بھی تشکیل دیا جائے گا۔ 19 مئی 2023 تک اب تک عوامی ایکشن کمیٹی اور شہریوں پر اس مزاحتی تحریک کے دوران جتنے بھی مقدمات قائم کیے گئے ان سب کا خاتمہ کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت مظفرآباد اور پونچھ ڈویژنز میں دو نئے انٹرمیڈیٹ و سیکنڈری تعلیمی بورڈز قائم کیے جائیں گے اور تمام تعلیمی بورڈز کو فیڈرل بورڈ اسلام آباد سے منسلک کیا جائے گا۔ یہ عمل 30 دن میں مکمل کیا جائے گا۔ ریاست بھر میں یکساں نظام تعلیم اور یکساں میرٹ کا قیام کیا جائے گا۔ طلباء تنظیموں کی بحالی کیلئے تین ماہ میں ضابطہ اخلاق بنایا جائے گا۔ موبائل سروسز کی بہتری کیلئے 8 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے موبائل پیکیجز اور ان کا معیار اسلام آباد کے برابر کیا جائے گا۔ منگلا ڈیم ریزنگ منصوبے کے متاثرہ خاندانوں کی زمینوں کو 30 دن میں قانونی شکل دے کر رجسٹرڈ کیا جائے گا۔بلدیاتی نمائندگان کو مکمل با اختیار کرنے اور تمام لوکل گورنمنٹ کے فنڈز منتقل کیلئے آزادکشمیر کا لوکل گورنمنٹ ایکٹ اپنی اصل شکل (1990ء) کے مطابق بحال ہوگا اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر 90 دن میں مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔آزادکشمیر کے تمام لوگوں کیلئے ہیلتھ کارڈ کے نفاذ اور فعال کرنے کے لیے فنڈز 15 دن کے اندر جاری ہوں گے، ہر ضلع اور ہر تحصیل کے ہسپتالوں میں مرحلہ وار MRI اور CT اسکین مشینیں فراہم کی جائیں گی جن کے اخراجات حکومت پاکستان برداشت کرے گی۔بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے حکومت پاکستان 10 ارب روپے فراہم کرے گی، جس کا تفصیلی منصوبہ جاری ہوگا۔ عوامی ایکشن کمیٹی آزادکشمیر بھر میں بجلی چوری ، محکمہ برقیات کی میٹرنگ ، غیر قانونی کنکشن منقطع کرنے اور بقایا جات کی ادائیگی میں محکمہ برقیات کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ کرپٹ عناصر پر ہاتھ ڈالنے کیلئے آزادجموں کشمیر احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ضم کیا جائے گا اور آزادکشمیر کا احتساب ایکٹ، پاکستان کے نیب قوانین کے مطابق بنایا جائے گا۔وادی نیلم روڈ پر کہوری/کامسر اور چھپلانی کے مقام پر دو سرنگوں کی تعمیر کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی حکومت پاکستان کرے گی جسے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت اولین ترجیح پر تعمیر کیا جائے گامیرپور میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قیام کے لیے موجودہ مالی سال میں ٹائم فریم کا اعلان کیا جائے گا۔پراپرٹی ٹیکس کو پنجاب اور خیبرپختونخوا کے برابر کیا جائے گا جو تین ماہ میں نافذ ہوگا۔ ایڈوانس ٹیکس میں کمی گلگت بلتستان اور فاٹا کی طرز پر کی جائے گی۔آزاد کشمیر کے 10 اضلاع میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈی موجودہ مالی سال میں مکمل کی جائے گی اور تمام تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں آپریشن تھیٹرز اور نرسری یونٹس قائم کرنے کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں گے۔عوامی سہولت کیلئے گلپور اور رحمان (کوٹلی) پر دو نئے پل تعمیر کیے جائیں گے اور ڈڈیال کی کشمیر کالونی کے لیے واٹر سپلائی اسکیم اور ٹرانسمیشن لائن منصوبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔منڈور کالونی ڈڈیال کے مہاجرین کو ملکیتی حقوق دیے جائیں گے۔ کہوٹہ آزاد پتن سڑک سدھنوتی کی حدود میں مرمت اور تعمیر کی جائے گی۔