مظفرآباد( )آل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کے صدر اور سابق و زیراعظم سردارعتیق احمدخان نے کہا کہ 13جولائی کے شہدائے کشمیر کی تحریک آزادی کی بنیاد اپنے خون سے رکھ کر آنے والی نسلوں کے مستقبل کے راستے متعین کردئے تھے۔ ڈوگرہ استبداد کے خلاف اہل کشمیر کی یہ قربانیاں اب نئے انداز اور ولولے کے ساتھ جاری ہیں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے 13جولائی یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی شہداء کشمیر کے نقش قدم پر چل کر قربانیاں دے رہے ہیں۔ بھارت ڈوگرہ حکمرانوں کی طرح کشمیریوں کی حق اور سچ کی آواز کو طاقت سے کچل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیاء کافلیش پوائنٹ بن چکا ہے دنیا نے اس مسئلے کی سنگینی کااحساس نہ کیا تو جنوبی ایشیاء میں امن واستحکام اور ترقی کاخواب تکمیل کو نہیں پہنچے گا۔ شہدائے کشمیر قوم کے محسن ہیں۔انہوں نے سری نگر سینٹر ل جیل کے باہر جان قربان کر کے کشمیریوں کے لئے جس منزل کاتعین کیاتھا آج بھی وہ منزل پوری قوم کی نظروں کے سامنے ہے اور اس کے حصول کیلئے قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اور وہ دن دور نہیں جب یہ قربانیاں رنگ لائیں گی اور مقبوضہ کشمیر کے عوام آزاد فضاؤں میں سانس لینگے۔انہوں نے کہا کہ 13جولائی1931کو سرینگر سینٹرل جیل کے سامنے بائیس افراد نے اپنی جانیں قربان کی تھیں یہ ہجوم توہین قرآن کے واقعات کے خلاف احتجاج کرنے والے عبدالقدیر کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر جمع تھا اور نماز ظہر کا وقت ہونے پرہجوم میں سے ایک شخص نے اذان دینا شروع کی جسے ڈوگرہ سپاہیوں نے گولی مار کر شہید کردیااور اس اذان کو مکمل کرنے کیلئے 22افراد نے اپنی جانیں قربان کی۔آج اس عظیم قربانی کی یاد میں یہ دن منایا جاتاہے۔ بائیس شہداء کی اس قربانی نے جس تحریک کی بنیاد رکھی وہ اب بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری ہے یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور کشمیر آزادہوگا۔ انشا ء اللہ