کرم ایجنسی میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 36 افراد جاں بحق اور 162 زخمی ہیں۔ مورچوں پر سفید جھنڈیاں لگا دی گئیں۔

گرینڈ جرگہ، سول ایڈمنسٹریشن ، سکیورٹی فورسز، پولیس ڈیپارٹمنٹ دیگر اداروں، اور قومی مشران کے کوششیں کامیاب، فائر بندی ہوگئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 36 افراد جاں بحق اور 162 زخمی ہیں۔ مورچوں پر سفید جھنڈیاں لگا دی گئیں۔ پولیس۔
۔۔۔۔۔۔۔
سدہ کرم ( نمائندہ خصوصی ) ضلع کرم کے متحارب قبائل کے مابین گزشتہ چھ دنوں سے جاری لڑائی پر آخرکار سیکیورٹی فورسز، مقامی انتظامیہ و پولیس نے گرینڈ جرگہ، مقامی مشران آہلسنّت ؤ آہل تشیع کے تعاؤن سے مسلسل کوششوں کے بعد قابو پالیا ہے۔ اس دوران گرینڈ قبائلی جرگہ ؤ مشران قوم دن رات لگے رہے، تاکہ سیز فائر کرسکیں۔ گرینڈ جرگہ نے قبائلی رسم و رواج و دستور کے مطابق فریقین کے مشران کےساتھ دوطرفہ مذکرات کے ذریعے مسلسل بات چیت و کامیاب گفت و شنید کرتے ہوئےجہد مسلسل اور کوششوں کے بعد فریقین کو جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ اس سلسلے میں گرینڈ قبائلی جرگہ کو جی آؤ سی کوہاٹ ڈویژن، بریگیڈیئر 73 بریگیڈ، کمانڈنٹ کرم ملیشاء، ڈپٹی کمشنر کرم، مقامی پولیس و انتظامیہ اور مشران آہلسنّت ؤ طوری کا سپورٹ ؤ تعاؤن حاصل رہا۔ آمن کےلئے کی جانے والی کوششوں نے آخر کار رنگ لاتے ہوئے کامیابی سے ہم کنار ہوئیں۔ ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود کے دفتر سے جاری اعلامیہ کے مطابق ضلع بھر میں مکمل فائر بندی ہوچکی ہے۔ مسلح قبائل سے مورچے خالی کردی گئی ہیں۔ متاثرہ مقامات میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو تعینات کردیا گیا ہے۔ ان جھڑپوں میں کل 36 آفراد جان بحق جبکہ 162 زخمی ہوچکے ہیں۔ حیدری بلڈ بنک پاڑہ چنار کے دفتر سے جاری جان بحق افراد کی تعداد 30 ہے جن کا تعلق آپرکرم سے ہے۔ ہسپتال ذرائع میں زخمیوں کی تعداد 161 بتائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالجانان اورکزئی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ جنگ بندی پوری قوم کے لئے باعث خوشی ہے۔ جانی و مالی نقصانات پر سب کو رنج اور دکھ ہے۔ پوری قوم دعا گو ہے کہ آللہ ایسے حادثات و واقعات دوبارہ نہ آنے دیں۔ لوئرکرم کے تمام مورچوں پر سفید جھنڈیاں لگا دی گئیں ہیں اور اس وقت مورچے مکمل خالی کرکے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے کنٹرول میں ہیں۔ ڈاکٹر جانان نے امن امان پر آمادگی پر فریقین کا شکریہ ادا کرتے ھوے صبر و تحمل کےساتھ رہنے کی تلقین کی۔ اپنے طرف سے ہرقسم قربانی کی یقین دھانی کرائی۔اور صوبے کے بڑے تدریسی ھسپتالوں سنٹر آف ایکسپلینس ( کےٹی ایچ، ایل آر ایچ، ایچ ایم سی پشاور اور اسلام آباد ھسپتال کمپلیکس پمز ، شفا انٹرنیشنل ھسپتال اسلام آباد میں فریقین کے زخمیوں کے مفت معیاری علاج ومعالجہ کو یقینی بنانے کےلیے ہرقسم کے خدمات کو فرض عین سمجھتے ھوے یقین دہانی کرائی۔ ڈاکٹر جانان اورکزئی نے علماء کرام اور دین مکاتب فکر کے اہم شخصیات، گرینڈ جرگہ ممبران، مقامی مشران اور جنرل ذوالفقار بھٹی، بریگیڈئیر شہزاد، کمانڈنٹ تیمور سلطان چیف سیکرٹری ندیم اسلم چودھری، کمشنرحافظ معتصم بااللہ، ڈی سی جاوید اللہ، اخترحیات آئی جی، شیراکبر ارپی او، ڈی پی او ناصر، اور انکے ٹیموں کے مخلصانہ کاوشوں کو عوام الناس کےطرف سے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس کے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے اور آس کے مشوروں کو اہمیت دینے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ھوے پائیدار آمن کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے پر زور دیا۔ اور عوام کو تجارت و روزگار کے مواقع اور آسانیاں پیدا کرنے پر زور دیا۔ فریقین اور حکومت آہل کار نے ڈاکٹر عبدالجانان اورکزئی کا شکریہ ادا کرتے ھوے ہرقسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں