معاون خصوصی برائے انسداد بدعنوانی بریگیڈیئر (ر) محمد مصدق عباسی کی پریس کانفرنس
دوبئی لیکس میں اس بار کئی جرنیلوں کے نام بھی آئے ہیں
بہت لوگوں کا موقف ہے کہ دوبئی لیکس پراپرٹی کو اثاثوں میں ظاہر کیا ہے
مسئلہ اثاثوں میں ظاہر کرنے کا نہیں بلکہ غلط طریقے سے بیچنے اور آمدن کا ذریعہ نہ بتانے کا ہے
یہ بہت بچکانہ بات ہے کہ ہمارے لوگ باہر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور پھر ہم لوگوں کو یہاں سرمایہ کاری کے لیے بلاتے ہیں
آرمی ڈسپلن ادارہ ہے وہ بھی اپنے آپ کو صاف کرکے جرنیلوں کے اثاثے ظاہر کردیں
جن لوگوں نے اگر 12 ارب کی بدعنوانی کی تو اصل میں 30 ارب سے زائد ہے
نیب ترامیم کے باعث ادارہ مکمل تباہ ہوگیا ہے اور بدعنوانی بڑھ گئی ہے
ترامیم کے تحت اگر بدعنوانی 50 کروڑ سے زائد ہے تو تب ہی کیس بن سکتا ہے
پی ٹی آئی دور میں نیب 480 ارب کی ریکوری کی
نیب ترامیم سے 1100 ارب روپے کے کیسز پر پڑیگا
ان لوگوں کا موقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی ایک سال مزید رہتا تو ان سب کو سزاء ہوتی
شرمناک بات تو یہ ہے کہ نیب خود ان ترامیم کا دفاع کررہا ہے
نیب ترامیم کے بعد وائٹ کالر کیسز ختم ہوگئے ہیں
ترامیم کے سیکشن 9 کے تحت اگر 100 بندوں سے کم لوگوں کو دھوکہ دیا جائے تو نیب کیس نہیں بنے گا
ترمیم کے تحت اگر انکوائری 6 ماہ میں مکمل نہیں ہوتی تو کیس ختم ہوجائے گا
باہر سے لایا جانے والا اثاثوں کا ثبوت عدالتوں میں قابل قبول نہیں ہوگا
سیکشن 23 کے تحت انکوائری اگر شروع بھی ہو تو اثاثے فروخت کرسکتے ہیں
ترامیم سے ملکی خزانے کو سالانہ 150 ارب روپے کا نقصان ہوگا