37

انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے توہین رسالت کے مرتکب مجرم ابتسام المصطفی کو عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزاء سنا دی

(اسلام آباد)سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے ایک مقدمے میں انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے پر زیر حراست مجرم ابتسام المصطفی کو دفعہ 295 سی کے تحت عمر قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزاء سنا دی ہے۔فاضل جج شوکت کمالداد نے مذکورہ مقدمے کا فیصلہ سنایا۔مذکورہ مقدمہ سنہ 2018 میں محمد سعید کی مدعیت میں ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل راولپنڈی میں درج کیا گیا تھا۔تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے سنہ 2018 سے زیر سماعت سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے ایک مقدمے کا آج(جمعہ کو)فیصلہ سناتے ہوئے توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے پر زیر حراست مجرم ابتسام المصطفی ولد عطاءالمصطفی کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت عمر قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزاء سنائی ہے۔مذکورہ مقدمے کا فیصلہ فاضل جج شوکت کمالدار نے سنایا۔فاضل عدالت مذکورہ مقدمے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرے گی۔واضح رہے کہ تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والے مجرم ابتسام المصطفی ولد عطاءالمصطفی کے خلاف سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے الزام میں مقدمہ اگست 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل راولپنڈی میں محمد سعید کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔مذکورہ مقدمے میں توہین رسالت و توہین مذہب کے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعات سمیت انسداد دہشتگردی ایکٹ اور انسداد سائبر کرائم ایکٹ کی متعلقہ دفعات لگائی گئی تھیں۔دوسری طرف ترجمان شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان حافظ احتشام احمد نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم ابتسام المصطفی پر توہین رسالت کا جرم ثابت ہوچکا ہے۔تاہم توہین رسالت کے مجرم ابتسام المصطفی کو سنائی گئی عمر قید کی سزاء ناکافی ہے۔فاضل جج نے مجرم کو دفعہ 295 سی کے تحت توہین رسالت کے جرم کا مرتکب قرار دیکر عمر قید کی سزاء سنائی ہے۔جبکہ دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت سے کم کوئی سزاء نہیں دی جاسکتی۔ابتداء میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت یا عمر قید میں سے کوئی بھی سزاء دی جاسکتی تھی۔تاہم وفاقی شرعی عدالت نے توہین رسالت کے مرتکب مجرم کو عمر قید کی سزاء خلاف شریعت قرار دے دی تھی۔جس کے بعد تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی میں سے عمر قید کی سزاء کو حذف کرکے صرف سزائے موت رکھی گئی تھی۔لیکن تعزیرات پاکستان کے بعض نسخوں میں تاحال دفعہ 295 سی میں سزائے موت اور عمر قید دونوں سزائیں لکھی ہوئی ہیں۔شائد اسی وجہ سے فاضل جج نے مغالطے کا شکار ہوکر مذکورہ مجرم کو عمر قید کی سزاء سنائی ہے۔ہمیں امید ہے کہ جب مذکورہ مقدمہ اپیل میں ہائیکورٹ جائے گا تو ہائیکورٹ قانون کے مطابق مذکورہ مجرم کی عمر قید کی سزاء کو سزائے موت میں تبدیل کر دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں