25

سندھ میں صحافیوں کے تحفظ کا بل منظور کرانے والی سندھ حکومت کے وزیر سردار شاہ نے عمر کوٹ کے صحافی کو ‏مبینہ طور پر اپنے گماشتوں سے درخواستیں دے کر گرفتار کروادیا

کراچی میں اب تک ٹی وی کے بئورو چیف امتیاز چانڈیو نے عمر خوٹ کے صحافی کی پولیس کی تحویل میں تصویر شئیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی دھشتگرد نہیں، بلکہ عمرکوٹ کا مقامی صحافی مشتاق کنبھر ہے جو کرپشن کے خلاف لکھتا رہا ہے، صوبائی وزیر سردار شاھ نے ایک افسر کے ذریعے اس پر مقدمات درج کروا کر انہیں گرفتار کروایا ہے۔ صحافتی تنظیمیں سندھ کے اندر اس طرح کی غنڈا گردی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ‏شاید مشتاق کنبھر کا قصور یہ بھی ہے کہ وہ اسلام آباد کا نہیں،نا ہی اداروں کے خلاف ہے۔اس لئے بڑے بڑے نامور صحافی عمرکوٹ کے صحافی کی گرفتاری پر اس لئے خاموش ہیں کہ پیپلزپارٹی حکومت مخالف صحافیوں کی گرفتاری حلال ہے۔ صوبائی وزیر ناصر شاھ، سعید غنی، مرتضی وہاب اپنا کردار ادا کریں
صحافی ثاقب بشیر نے پیپلزپارٹی کے منافقانہ کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھاکہ ” ‏پیپلز پارٹی سندھ سے باہر آزادی صحافت کی چیمپئین ہے لیکن صحافتی برادری کی جانب سے آواز ناں اٹھانا افسوسناک ہے ”

سعدیہ کیانی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏”اگر ایسا ہے تو پھر صحافتی ادارے اس زیادتی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اگر صحافی کرپشن کے خلاف نہ لکھے تو کون لکھے گا؟ عوام کو سوچنا چاہئے کہ ان کے مفاد کا تحفظ کرپشن کو بے نقاب کرنے میں ہے۔ ایسے صحافیوں کے لئے ضرور آواز اٹھائیں جو حق پر ہوں”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں