21

ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ میں پولیس اہلکار نے انت مچادی جائیداد کا تنازعوں پر فوجداری مقدمات بنانے شروع کردئیے

(سنگجانی بیورو رپورٹ)آر پی او راولپنڈی کی ترجیحات کو نظر انداز کرتے ہوئے فتح جھنگ کی پولیس عوام کے لیے سر درد بن گئی ڈی پی او اٹک ارو سرکل انچارج ڈی ایس پی فتح جنگ کے خلاف مظلوم خاندان کا آر پی او راولپنڈی کے آفس کے باہر حصول انصاف کے لئے پر امن احتجاج جائیداد کے تنازع فتح جھنگ کی پولیس کے اہلکار اے ایس آئی ملک طاہر نے ملی بھگت سے فوجداری کیس درج کرنا شروع کردیے جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ظلم کی ستائی خاندان حصول انصاف کے لیے آر پی او راولپنڈی کے آفس پہنچ گئے۔قبضہ مافیا اپنے مقصدمیں وہ کس حد تک فتح جنگ پولیس کی مدد سے کامیاب ہوے، اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے لیکن تاریخ کے صفحات کھنگالتے کھنگالتے اتنا ضرور احساس ہوگیا کہ انصاف کی کشتی میں ناانصافیوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ اس کا سمندر کی سطح پر تیرتے رہنا اور ساحل تک پہنچنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔پہلے بھی فتح جنگ سرکل میں ایک نہتے نوجوان کو پولیس کسٹڈی میں تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔فتح جھنگ پولیس کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت جلیل کا مظلوم خاندان انصاف کے کفن میں لپٹی ناقابل تصور دکھ کی ایسی لاتعداد داستانیں فتح جھنگ میں عنوان چاہتی ہیں جنہیں کبھی پوری طرح سنوائی نہ ہو سکی۔آر پی او راولپنڈی کے آفس کے باہر احتجاج کرنے والے جلیل اس کا چہرہ اس وقت کی فتح جھنگ میں مجبوری و بے کسی زندگی گزارنے عکاسی کرتا ہوا نظر آیا۔انصاف کی چوکھٹ پر پے درپے کیس آتے ہی رہتے ہیں، لیکن جب انصاف دلانے کی دہلیز پر علم و انصاف کے عاشق بھی قبضہ مافیا کی زد میں آجائیں تو زبانیں گونگی ہوجاتی ہیں جیسا کہ فتح جھنگ میں قانون کے رکھوالے ہی قبضہ مافیا کے سرپرست بن بیٹھے فتح جھنگ کی پولیس جس نے مظلوموں کو انصاف دلانے کیلئے وردی پہنی تھی۔مگر مظلوموں کی داد رسی کرنے کے بجائے قبضہ مافیا اور جرائم پیشہ افراد کا ساتھ دینے لگے یہ کڑوا سچ ہے کہ غیر معمولی تبدیلیاں فتح جھنگ کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں لیکن فتح جھنگ پولیس کی فطرت بدلتی نظر نہیں آ رہی۔ اب تو جلیل کے خاندان پر پے درپے ظلم و زیادتی کی لہر میں کچھ زیادہ ہی تیزی آگئی ہے۔ اس کی وجہ راولپنڈی آر پی او آفس کے باہر پرامن احتجاج کیا گیا۔ وزیر داخلہ اور آر پی او راولپنڈی سے مطالبہ کیا کہ ہمیں فی الفور انصاف مہیا کیا جائے فتح جنگ پولیس کا قبلہ درست کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں