32

کراچی میں ظاہر علی سید کا قتل کیوں سندھی مہاجر تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش

شہید ظاہر علی سید کو گولی جس طرح ماری گئی ہے اس سے نہی لگتا کہ کار جیکنگ کی گئ تھی اب سی سی ٹی وی سے ممکنہ طور پر لگے گا کہ اگر کوئ موٹر سائیکل تھی یا کار کے اندر کوئ ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔ قتل کی وجوہات فی الحال ممکنہ کار جیکنگ ہے اور کراچی کو ایک مرتبہ پھر لسانی و قوم پرستی کی جانب دھکیلا جارہا ہے – بحریہ کے نام پر کراچی میں سندھ کے ان لوگوں کا استعمال کیا گیا ہے جن کے تانے بانے اسٹیبلشمنٹ سے ملتے رہے ہیں – مرحوم پلیجو نے اپنے بیٹے سے پارٹی کی رہنمائُ لی تھی اور اسی طرح کے دیگر گرینڈ الائنس کے دیگر لوگ ہیں – اس حملہ میں کسی طرح ملک ریاض کو نقصان نہی پہنچایا گیا بلکہ مقامی رہائشی لوگ نشانہ بنے اور پولس ورینجرز و فوج و کسی نے قطعا روکنے کی کوشش نہی کی بعد میں نظر بظاہر لوگ گرفتار کئے گئے مگر اس تمام حملے اور گرفتاریوں اور رہائ میں اصل مقصد لسانیت و سندھ حکومت کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کراچی سرکاری مہاجر اور پی ٹی آئ کے قبضے میں ہے ۔ اس سب کے علاوہ کراچی میں کار و موٹر سائیکل پر لوٹ مار میں اچانک اضافہ اور اس کی وڈیوز وائرل ہونی شروع ہوگئیں ہیں ساتھ ہی الطاف اور اس کے پرانے حواریوں کے بیانات بھی ۔ اب ظاہر علی سید کا قتل بھی ایک پرانی ترتیب بتاتی ہے کہ معروف اور غیر سیاسی و اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کا قتل شروع ہے کراچی یونیورسٹی کے پروفیسرز ایک آسان نشانہ ہوتے ہیں اور خبر بھی بین الاقوامی بنتی ہے ۔ لہذا کراچی کو اور اس کے عوام کو ایک مرتبہ پھر سیاسی و لسانی و قومیت کے نام پر پھر نشانہ بنا کر وہی پرانے قابض اور وہی پرانے رینجرز و خفیہ ادارے اپنے لوگوں کو اکھٹا کر رہے ہیں تاکہ پھر اربوں لوٹے جائیں اور لاکھوں قتل کئے جائیں تاکہ جس طرح ماضی میں کیا اور کسی نے کسی کو قصور وار نہی ٹھہرایا – بس لوٹا اور قبضہ کیا ۔

کراچی میں ڈاکٹر ظاہر علی سید کا قتل انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک سانحہ ۔۔ وجوہات جو بھی بیان کی جائیں گی لیکن اس واردات کے اثرات یہ ہی نکلیں گے کہ وہ والدین جنکے بچے ڈاکٹر صاحب کی طرح اعلی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوجائیں گے وہ ہاتھ جوڑ کر اپنے بچوں کو پاکستان / کراچی سے دور رہنے کو کہیں گے ۔۔ اس قسم کی وارداتیں ملک سے برین ڈرین کا سب سے بڑا سبب بنتی ہیں ۔۔ ڈاکٹر ظاہر علی سید کے ہزاروں شاگرد اس وقت انجینئر بن چُکے ہیں اور بہت سے زیر تعلیم انجینئرز انکے اس طرح قتل کئے جانے پر کیا تاثر لینگے سوائے اسکے کہ کراچی اور پاکستان سے ہجرت کرکے کہیں اور جابسیں اور اپنی قابلیت اور صلاحیت سے اپنی شہر اور اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنے سے محروم کردئیے جائیں ۔۔ حکومت کیلے یہ سفاکانہ قتل بڑا چیلنج ہے کہ وہ جلد اصل وارداتیوں تک پہنچ کر انہیں نشان عبرت بنائیں ورنہ مستقبل میں شائد ہی کوئی اعلی تعلیم یافتہ انسان اس شہر کی سڑکوں پر اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرسکے گا ۔۔ ڈاکٹر ظاہر علی سید آپکے ساتھ گزارا ہوا وقت میرے لئے سرمایہِ اعزاز اور آپکا بے رحمانہ قتل ذاتی نقصان ہے ۔۔ انتہائی دُکھی دل کے ساتھ آپکی مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا ہے 🙏

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں