82

ٹی ایل پی کے ملک بھر کے مختلف شہروں میں دھرنے، پنڈی اور اسلام آباد کے داخلی راستے بھی بلاک

*ٹی ایل پی کے ملک بھر کے مختلف شہروں میں دھرنے، پنڈی اور اسلام آباد کے داخلی راستے بھی بلاک*

تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اوردھرنے جاری ہیں۔۔

لاہور میں ملتان روڈ پر چوہنگ سمیت دیگر مقامات پر احتجاج کے باعث ٹریفک بلاک ہوگیا جبکہ چوک یتیم خانہ میں مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے پولیس نے شیلنگ بھی کی ہے ۔

لاہور میں احتجاج :
سگیاں پُل، شاہدرہ اور فیروز پور روڈ اور مال روڈ پر شنگھائی پُل کے قریب بھی ٹریفک بلاک ہوگیا ہے۔

ملتان میں احتجاج :
ملتان میں بہاولپوربائی پاس چوک پراحتجاج کے باعث ٹریفک جام ہوگیا اورگاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ احتجاج کے باعث عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

منڈی بهاول دین اور لودھراں کی اہم شاہراہوں سمیت خان پور میں بھی احتجاج جاری ۔

کراچی میں احتجاج کی صورتحال :
دوسری جانب کراچی میں سٹار گیٹ قائد آباد ملیر کالا بورڈ اورنگی ٹاؤن نمبر4 اور بلدیہ نمبر4 ، حب ریور روڈ ، لیاقت آباد ، کورنگی میں بھی احتجاج کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔

آئی آئی چندریگر روڈ، ایم اے جناح روڈ سمیت ملحقہ سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہے اور ٹاور سےگورنر ہاؤس تک گاڑیوں کی طویل قطار لگ گئی ہے۔ اسٹار گیٹ کے مقام پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہے جبکہ احتجاج اور مختلف شاہراہوں پر ٹریفک جام کے باعث دفاتر سے گھروں کو جانے والے افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اسلام آباد کی صورتحال
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھارہ کہو میں احتجاج جاری ہے جس کے باعث اٹھال چوک بند کردیا گیا ہے جبکہ اٹھال چوک بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کےداخلی راستے بھی بلاک ہوگئے ہیں جس سے لوگوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں جبکہ آزاد کشمیر اور مری جانےوالے راستوں پر بھی ٹریفک جام ہوگیا۔

راولپنڈی میں لیاقت باغ چوک پر بھی احتجاج جاری ہے جس کے بعد اطراف میں ٹریفک بلاک ہوگیا جبکہ لیاقت باغ چوک پرمشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی اور پتھراؤ بھی کیا۔

اُدھر ملک کے مختلف شہروں میں بھی مذہبی سیاسی تنظیم تحریک لبیک کی جانب سے مرکزی امیر حافظ سعد حسین رضوی کی گرفتاری اور فرانسیسی سفیر کی ملک بدری سے متعلق فیض آباد معاہدے کی حکومت کی جانب سے خلاف ورزی کے خلاف دھرنے اور احتجاج جاری ہے جس کے باعث اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔

مزید شہروں کے مختلف مقامات پر احتجاج کی اطلاعات کے لئے انتظار کریں اور غیر ضروری طور پر سفر سے اجتناب کریں ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں