32

امریکہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مبینہ لابسٹ اور سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کے قریبی دوست عمار زبیری پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین سی آئی اے کا اثاثہ بھی تھے: وال سٹریٹ جرنل کا انکشاف رپورٹ آفاق فاروقی

امریکہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مبینہ لابسٹ اور سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کے قریبی دوست عمار زبیری پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین سی آئی اے کا اثاثہ بھی تھے: وال سٹریٹ جرنل کا انکشاف
رپورٹ آفاق فاروقی

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ غیرملکی حکومتوں کے لیے کام کرنے کے الزام میں امریکہ میں 12 سال کی سزا پانے والے پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین عماد زبیری جنہیں امریکہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کا لا بیسٹ بھی قرار دیا جاتا ہے اور جو سابق وفاقی وزیر پیٹرولمُ ڈاکٹر عاصم کے قریبی دوست سمجھے جاتے ہیں ، واشنگٹن حکومت کے لیے ایک دھائی سے زائد عرصہ تک خفیہ کام سرانجام دیتے رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق 50 سالہ عماد زبیری کو ٹیکس چوری، غیر ملکی اثر و رسوخ کی نشاندہی اور مالیاتی مہم کی خلاف ورزیوں کے الزام میں 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
لیکن اب وال سٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا کہ اس کیس کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ مذکورہ امریکیبزنس مین طویل عرصے سے امریکی انٹیلی جنس کا اثاثہ تھے جس نے خفیہ طور پر عدالت کی فائلنگ اور سماعت میں اہم کردار ادا کیاتھا۔
وال سٹریٹ جرنل نے یہ دعویٰ بھی کیاہے کہ وہ ان قانونی دستاویزات کا جائزہ لے چکا ہے جن کے مطابق عماد زبیری کے امریکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ رابطے تھے۔ رپورٹ کے مطابق سزا پانے سے پہلے عماد زبیری ناصرف شاہانہ طرز زندگی گزاررہے تھے بلکہ انہوں نے براک اوباما، ہلیری کلنٹن، ڈونلڈ ٹرمپ، جوبائیڈن اور کملا ہیریس جیسے امریکی رہنماو¿ں کے لیے وسیع پیمانے پر فنڈز بھی اکٹھے کیے تھے۔ اس کے علاوہ مسٹر زبیری امریکی کانگریس کے سینئر ریپبلکن اور ڈیموکریٹک ممبران کے لیے فنڈ ریزنگ ڈنرز کا اہتمام بھی کیا کرتے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کا حکومت کے ساتھ خفیہ تعاون ثابت ہوگیا تو اس سے ان کی سزا کم ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ واضح رہے اکتوبر 2019 میں امریکی محکمہ انصاف نے ان کے خلاف فوجداری الزامات دائر کیے تھے اور اس کے فورا بعد ہی انہوں نے اپنے اوپر لگے الزامات کا اعتراف کرلیا تھا۔ دوسری جانب اب ان کے وکیل اپنے موکل کی سزا کو چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ سوالات پیدا ہوسکتے ہیں کہ فوجداری الزامات کے خلاف مدعا علیہ کا انٹیلی جنس ایجنسیز کے ساتھ کتناتعاون قائم تھا۔ ان کے وکیل ڈیوڈ وارننگٹن نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ جیسا کہ پبلک ڈوکٹ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات اس کیس کا حصہ بن چکے ہیں اورشاید اسی بنیاد پر بلآخر اپیل ہوسکتی ہے۔
وال اسٹریٹ کے مطابق دوسری جانب محکمہ انصاف کے استغاثہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ عماد زبیری کو سزا سنانے سے پہلے امریکی ڈسٹرکٹ جج ورجینیا فلپس نے بند کمرہ سماعت کی تھی جس میں انہوں نے ایک مہر لگے ڈاکومنٹ پر غور کیا، جس کے مطابق پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین کی ٹیم نے حکومت کو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک مدد فراہم کی تھی۔
وال سٹریٹ جرنل نے عماد زبیری کے دعویٰ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ سی آئی اے معلومات کے حصول کے لیے ہمیشہ ایسے لوگوں کا انتخاب کرتی ہے جو عوام سے جڑے ہوتے ہیں،تاکہ وہ لوگ ریکارڈنگ کے ذریعے سی آئی اے کو معلومات فراہم کریں، غیرملکیوں کی بھرتی میں تعاون کریں اور عالمی سطح پر معلومات کی ترسیل یا خفیہ معلومات کے حصول کے لیے کام کرسکیں۔
رپورٹ کے مطابق عماد زبیری کی لیگل ٹیم نے اپنے موءکل کی حکومت کے ساتھ تعاون کی پوری تاریخ مرتب کی ہے، اور اس دستاویز کو ایک قانون کے تحت سیل کردیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد مقدمات کی سماعت کے دوران انٹیلیجنس ذرائع اور طریقہ کار کا تحفظ ہے۔
وال اسٹریٹ کے مطابق دوسری طرف جب سی آئی اے کے ترجمان ٹموتھی بیریٹ سے اس معاملے پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جرنل کو محکمہ انصاف سے رابطہ کرنے کی درخواست کی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق عماد زبیری کو اپنے دفاع میں سی آئی اے کے دو سابق عہدیداروں کی مدد حاصل ہے۔ سی آئی اے کے سابق وکیل رابرٹ ایٹینجر بھی مسٹر زبیری کی دفاعی ٹیم میں شامل ہوچکے ہیں ، اس کے علاوہ سی آئی اے کے سابق عہدیدار جوس روڈریگوئز نے جج کو مہر بند حلف نامہ میں کیس میں معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں