47

50 لاکھ گھروں کے دعویداروں کا مزدوروں کے 84 ارب سے تعمیر مکانات پر ڈاکہ لمزدور ویلفیئر فنڈ سے تعمیر شدہ فلیٹ اور گھروں کو نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا نام دیا گیا

50 لاکھ گھروں کے دعویداروں کا مزدوروں کے 84 ارب سے تعمیر مکانات پر ڈاکہ
لمزدور ویلفیئر فنڈ سے تعمیر شدہ فلیٹ اور گھروں کو نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا نام دیا گیا

دوسروں کے منصوبے چاہے کوئی اسکول ہو کالج ہو یونیورسٹی ہسپتال موٹروے بجلی کر یا ڈیم پر اپنی تختی لگا کر لوگوں کو بتانا کہ یہ ہم نے بنا دیا ہے عمران خان کا طریقہ واردات ہے
تبدیلی سرکار سے مزدور بھی نہ بچ سکے ورکرز ویلفیئر فنڈ کے بنائے گئے فلیٹس اور گھروں پر نیا پاکستان کی تختی لگا کر پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ پورا کردیا
تختی لگانا بڑا ظلم نہیں ہے لیکن مزدوروں کا حق پر ڈاکہ ڈالنا بڑا ظلم ہے مزدوروں کا حق چھین کر اپنے من پسند لوگوں کو فلیٹ اور گھر دے کر نوازا جا رہا ہے

ورکرز ویلفیئر فنڈ مزدوروں کے لئے اہم ادارہ ہے یہ مزدوروں کی بچیوں کے لئے جہیز گرانٹ، سکالر شپ، ڈیتھ گرانٹ دینے کے علاوہ لیبر کالونیوں کا قیام اور تعلیمی ادارے بناتا ہے

مرکزی وزارت خزانہ کے پاس ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تقریباً 1اکھرب 55ارب روپے پڑے ہوئے تھے لیکن وہ اپنے استعمال میں لاتے ہیں
2010ء میں اٹھارویں ترمیم کے تحت مرکزی وزارت محنت کو ختم کر دیا گیا کیونکہ اس وقت کے چیئرمین ای او بی آئی ظفر اقبال گوندل ورکر ویلفیئر فنڈ کے 45ارب روپے کھا گئے
ظفر اقبال گوندل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نذر محمد گوندل کے بھائی اور ندیم افضل چن کے ماموں ہیں کیونکہ گوندل اور چن فیملی عمران خان کے ساتھ شامل ہو گئی ہے اس لیے اتنی بڑی کرپشن کرنے والے کو پوچھا ہی نہیں گیا کیونک وہ بنی گالہ کی مشین میں ڈرائی کلین ہوگئے تھے

50 لاکھ گھروں کے دعویداروں کا مزدوروں کے 84 ارب سے تعمیر مکانات پر ڈاکہ

او جی ڈی سی ایل کی یونین کے سیکرٹری جنرل انصار وڑائچ اور دیگر مزدوروں نے بتایا
او جی ڈی سی ایل کے ملازمین کے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے۔ او جی ڈی سی ایل نے آج تک 83 ارب 74 کروڑ روپے ورکرز ویلفیئر فنڈ میں دیئے ہیں لیکن ہمیں قرعہ اندازی میں شامل نہیں کیا گیا
یہ مکان اور فلیٹ صنعتی مزدوروں کےلئے تیار کئے گئے ہیں جنہیں نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم سے جوڑ کر جعلی مارکیٹنگ کی جا رہی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ”ورکرز ویلفیئر فنڈ کی انتظامیہ نے محنت کشوں کی جمع شدہ رقم سے ڈویلپ کئے گئے پلاٹوں کی آپس میں بندر بانٹ کر لی ہے اور کئی پلاٹ الاٹ کئے گئے ہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ مکانات اور فلیٹس کی الاٹمنٹ میں بھی انتظامیہ اور حکومتی نمائندگان نے ملی بھگت سے اپنے من پسند افراد کو نوازا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرعہ اندازی میں منتخب ہونے والے افراد کے ناموں کی فہرست بھی عام نہیں کی گئی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ”اس کام میں گورننگ بورڈ کے چند ایسے ممبران شامل ہیں جو غیر فعال اداروں سے چنے گئے ہیں اور اسلام آباد میں پراپرٹی مافیا سے تعلق رکھتے ہیں، ان افراد نے راتوں رات قواعد اور قوانین میں ترمیم کر کے اس سکیم کے تحت من پسند لوگوں کو نوازا ہے
یہ تھی وہ جھوٹی تبدیلی جس سے غریب مزدور بھی نہ بچ سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں