52

پاکستان سے تعلق رکھنے والی ممتاز مصنفہ، مکالمہ نگار اور ڈراما نویس  حسینہ معین آج صبح انتقال کرگئیں

معروف ناول نگار حسینہ معین انتقال کرگییں
کراچی: معروف ناول نگار حسینہ معین 80 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔
اہلخانہ کے مطابق حسینہ معین طویل عرصے سے کینسرکے مرض میں مبتلا تھیں۔ حسینہ معین کی نماز جنازہ بعد نماز عصر نارتھ ناظم آباد بلاک آئی میں ادا کی جائے گی۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والی ممتاز مصنفہ، مکالمہ نگار اور ڈراما نویس حسینہ معین 20 نومبر 1941 کو بھارت کے شہر کان پور میں پیدا ہوئی تھیں۔ حسینہ معین نے ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور تقسیم ہند کے بعد ان کا گھرانہ راولپنڈی میں آباد ہوا۔ مگر جلد ہی لاہور منتقل ہوگیا۔ 50 کی دہائی میں کراچی آئیں اور اپنی خداداد صلاحیت کی بنا پر بطور ادیب لکھنا شروع کیا۔
حسینہ معین کے ٹیلی وژن کیریئر کا آغاز 1969 میں ہوا جب ’’عید کا جوڑا‘‘ کے نام سے تحریر کردہ ان کا ڈرامہ بے حد پسند کیا گیا۔ اُنہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے پاکستان اور بیرون پاکستان بہت سے یادگار ڈرامے لکھے۔
ان کے مشہور ڈراموں میں پرچھائیاں، دھوپ کنارے، انکل عرفی، تنہائیاں، پل دو پل، دھند، بندش، تیرے آجانے سے، شہ زوری، کرن کہانی، زیر زبر پیش، ان کہی، گڑیا، آہٹ، پڑوسی، کسک، نیا رشتہ، جانے انجانے، آنسو، شاید کہ بہار آجائے، آئینہ، چھوٹی سی کہانی، میری بہن مایا کے علاوہ دیگر مشہور ڈرامے شامل ہیں۔
حسینہ معین نے راج کپور کی فرمائش پر بھارتی فلم ’’حنا‘‘ کے مکالمے بھی لکھے جو 1991 میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔ پھر اُنہوں نے ایک پاکستانی فلم ’’کہیں پیار نہ ہو جائے‘‘ لکھی تھی۔ اس سے قبل وہ پاکستانی فلم ’’نزدیکیاں‘‘ اور وحید مراد کی فلم ’’یہاں سے وہاں تک‘‘ کے مکالمات بھی لکھ چکی تھیں۔ اُنہیں حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی بھی دیا گیا تھا
حسینہ معین (انگریزی: Haseena Moin) ‏ (پیدائش: 20 نومبر، 1941ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والی ممتاز مصنفہ، مکالمہ نگار اور ڈراما نویس آج صبح انتقال کرگئیں اُنہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے پاکستان اور بیرون پاکستان بہت سے ڈرامے لکھے۔ اُنہیں حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی بھی دیا گیا ہے۔
اُنہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بہت سے یادگار ڈرامے لکھے، جیسے، شہزوری، زیر زبر پیش، انکل عرفی، ان کہی، تنہایاں، دھوپ کنارے،دھند، آہٹ، کہر، پڑوسی، آنسو، بندش، آئینہ جیسے مشہور ڈرامے شامل ہیں۔اُنہوں نے فلم کے لیے بھی کام کیا ہے۔ اُنہوں نے راج کپور کی درخواست پر ہندی فلم حنا کے مکالمات لکھے تھے۔ پھر اُنہوں نے ایک پاکستانی فلم کہیں پیار نہ ہو جائے لکھی تھی۔ اس سے پہلے وہ پاکستانی فلم نزدیکیاں اور وحید مراد کی فلم یہاں سے وہاں تک کے مکالمات بھی لکھ چکی ہیں۔
حسینہ معین بظاہر دکھنے میں پتلی اور کمزور نظر آتی ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ کامیابی کے لیے طویل جدوجہد نے انہیں کمزور کردیا ہے، مگر انہوں نے اپنا سفر چھوڑا نہیں۔

پاکستانی نژاد اسکاٹش ڈرامہ ڈائریکٹر تسلیمہ شیخ کی دعوت پر ایک ماہ کے دورے پر اسکاٹ لینڈ گئی تھیں، تسلیمہ شیخ اپنی پہلی فلم پروڈیوس کرنے جا رہی ہیں، جس کے لیے انہوں نے مشاورت اور حسینہ معین کو اپنے ڈائلاگ لکھنے کے لیے دعوت دی تھی، تاہم بعد ازاں اس فلم کی کہانی انڈین فلم رائیٹر کمد چوہدری نے لکھی۔

اسکاٹ لینڈ کے دورے کے بعد حسینہ معین اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں لٹریچر فیسٹیول اور کتابوں کی تعارفی تقاریب میں مصروف ہوگئیں۔

1941 میں پیدا ہونے والی حسینہ معین سے میں نے جب کراچی آرٹس کونسل میں ان کے دفتر میں ملاقات کی تھی، میں نے ان سے ان کی جانب سے لکھے گئے ڈراموں سے متعلق گفتگو کی۔

میں نے انہیں بتایا کہ’ آپ کے پاس یادوں کا بہت بڑا قیمتی خزانہ ہے، آپ کے تعلقات کچھ بہت ہی زیادہ دلچسپ شخصیات کے ساتھ ہیں، اور یقینا ٹیلی وژن کے لیے انتہائی کامیاب ڈراموں اور سیریلز کے لیے آپ کا نام جلد ہی سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا‘۔

وقت تیزی سے گزر گیا، لیکن کمزور یادداشت والے لوگ آج بھی ان کے لکھے گئے ڈرامے انتہائی تیزی سے یاد کرلیتے ہیں۔

حسینہ معین ہنس پڑیں، اور کہا ’آپ نے اپنے ہی سوال کا خود جواب ہی دے دیا‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں