21

اے این پی نے سینیٹ انتخابات میں بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کر دی،اسد خان اچکزئی کا قتل افسوناک ہے، ایمل ولی خان اور جام کمال کی مشترکہ پریس کانفرنس

*اے این پی نے سینیٹ انتخابات میں بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت کر دی،اسد خان اچکزئی کا قتل افسوناک ہے، ایمل ولی خان اور جام کمال کی مشترکہ پریس کانفرنس*

کوئٹہ۔۔۔
وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان اور عوامی نیشنل پارٹی خیبر پشتونخوا کے صدر ایمل ولی خان کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان حکومت کی اتحادی ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی وعدے کے مطابق اے این پی کے امیدوار کو ووٹ دے گی، ہارس ٹریڈنگ کی روک تھام کے لئے حکومتی اتحادی جماعتیں مل کر سینٹ انتخابات میں حصہ لیں گے، بلوچستان کو سینٹ میں بلوچستان کی نظر سے دیکھنا ضروری ہے صوبے کے مقدمے کو اس وقت حل کیا جاسکتا ہے جب اسے اچھے انداز میں پیش کیا جائے، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطاعلات اسد خان اچکزئی کا قتل افسوسناک عمل ہے اسد اچکزئی معاملے پر مکمل انصاف ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں ارباب ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے سینٹ انتخابات کے لئے امیدوار ارباب عمر فاروق،پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بشریٰ رند، صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی، صوبائی وزیر عبدالرحمن کھیتران، بلوچستان عوامی پارٹی کے سیکرٹری جنرل منظور احمد کاکڑ، صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی، صوبائی وزیر لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ مٹھاخان کاکڑ، نور محمد دمڑ، عبدالخالق ہزارہ، نصیب اللہ مری، جان جمالی، مبین خان خلجی، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء رشید خان ناصر، اے این پی کے خاتون رکن صوبائی اسمبلی شاہینہ کاکڑ سمیت حکومتی و عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاکہ مخلوط حکومت اور اسکے تمام اتحادی سینٹ کا الیکشن ملکر لڑرہے ہیں تاکہ سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی روک تھام ممکن ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ آج خوشی ہے اے این پی کے رہنماء ایمل ولی خان بھی یہاں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جب بھی حکومتیں بنی وہ بلوچستان کی ضرورت کو دیکھ کر بنی، بلوچستان کے مقدمے کو اس وقت حل کرسکتے ہیں کہ جب اچھے انداز میں پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی سینٹ الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر اتحادیوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدواروں منظور کاکڑ، سرفراز بگٹی اور خالد بزنجو کی سپورٹ کرکے سینیٹر منتخب کرایا تھا جس پر ہم انکے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آنے والے سینٹ کا الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی ساتھ ہے جو پالیسی بلوچستان کے مفاد میں بہتر ہوگی اسے اپنائیں گے۔ وزیراعلیٰ جام کمال نے کہا کہ بلوچستان کے معاملات میں اتحادیوں نے ساتھ دیا ہے، پی ڈی ایم کا حصہ ہونے کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی نے حکومت کے ساتھ صوبے کے عوام کی بہتر مفاد کی خاطر اتحاد برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے کسی امیدوار کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، عبدالقادر کو بطور امیدوار تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی کا مشترکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے صوبائی ترجمان اسد اچکزئی اغوا ہوئے تھے حکومت نے ان کی ہر لحاظ سے بازیابی کیلئے کوششیں کیں۔ اسد خان اچکزئی کا قتل افسوسناک عمل ہے اسد اچکزئی معاملے پر مکمل انصاف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری کے واقعے کی طرح اس واقعے کا فوری ردعمل دینگے۔ اس موقع پر ایمل ولی خان نے کہا کہ ہم وزیراعلیٰ بلوچستان اور بلوچستان حکومت کے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے مشکور ہیں جنہوں نے ہماری دعوت پر ان کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی بلوچستان عوامی پارٹی کی اتحادی ہے آج ہماری سینٹ الیکشن سے متعلق ان سے بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ہم اتحادی بن کر حکومت چلا رہے ہیں اور بلوچستان کے لوگوں کے مسائل مل کر حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اسی طرح آنے والے سینٹ الیکشن میں اسی کوآرڈنیشن کے ساتھ حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج یہاں پر وزیراعلیٰ بلوچستان اور ہمارا اکھٹا بیٹھنا وہ تسلسل ہے کہ آج سے 25سال پہلے میرے والد اور وزریراعلیٰ جام کمال کے والد اکھٹے بیٹھتے ہوتے تھے انشاء اللہ کوشش ہوگی کہ اسی تسلسل کو آگے بڑھائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے مشکور ہے جنہوں نے جو کمٹمنٹ ہمارے ساتھ کی تھی اسی کے مطابق ہم نے ارباب عمر فاروق کو سینٹ انتخابات میں ہمارا امیدوار ہے اور اسی کمٹمنٹ کے تحت الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، حکومتی اتحاد کے امیدواروں کی کامیابی کے لئے کوشش کریں گے کہ سب کامیاب کرائیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ سینٹ الیکشن ہی ان کا واحد نقطہ ہے مگر کوئٹہ پہنچتے ہی انہیں صوبائی ترجمان اسد خان اچکزئی کے قتل کی بری خبر ملی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے صوبائی سیکرٹری اطلاعات پانچ ماہ قبل اغوا ہوئے تھے جن کی بازیابی لئے انہوں نے ہر سطح پر کوشش کی، اسد خان اچکزئی و دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ملک گیر احتجاج کیا اور ہائی کورٹ تک سے رجوع کیا جبکہ اسد خان اچکزئی کی بازیابی کے لئے احتجاج کے بعد بتایا گیاکہ لاپتہ افراد کا مسئلہ جلد ہوگا۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد اپنے پیاروں کو اس طرح نہیں چاہتے کہ لاش کنویں سے ملے، لاپتہ افراد کے لواحقین اور ہم ریاست سے ماں کا کردار چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے لاپتہ افراد کی بازیابی کو ممکن بنائے اور اگر کسی پر الزام ہے تو عدالت میں لایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اسد خان اچکزئی کے قتل کے الزام میں جو ملزم گرفتار ہوا ہے وہ سرکاری ملزم ہے اسد خان اچکزئی کو اسی دن ہی اغواء کے بعد قتل کرکے کنواں میں پھینک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسد خان اچکزئی کے لاپتہ ہونے کے تقریباً 15دن بعد اسد خان اچکزئی کے فون سے ان کے گھر والوں کو کال اور میسجز موصول ہوئیں اور ایک مہینہ قبل اسد خان اچکزئی کا فون ملا جس سے سم نکال کو توڑ دیا گیا تھا۔ ایمل ولی خان نے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں سے تاکید کی وہ پرامن رہے اور اشتعال میں سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے میں ہم سب کا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے اسد خان اچکزئی کے قتل کے اسباب جاننے کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں