39

الیکشن کمیشن نے این اے 75 شسکہ کے ضمنی انتخاب کو کاعدم قرار دے کر 18 مارچ کو دوبارہ ضمنی انتخاب کعانے کا فیصلہ کیا ہے

الیکشن کمیشن نے این اے 75 شسکہ کے ضمنی انتخاب کو کاعدم قرار دے کر 18 مارچ کو دوبارہ ضمنی انتخاب کعانے کا فیصلہ کیا ہے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن میں جو امیدواروں کو ماحول دیا گیا وہ منصفانہ نہیں تھا، فری اور فیئر ماحول میں الیکشن کا انعقاد نہیں ہوسکا جس کی بنا پر اس الیکشن کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ دھاندلی کرنے کے لیے مکمل سازش کی گئی تھی لیکن حکومت کے حربے ناکام ہوئے، عمران خان سازش میں سب سے آگے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آج سے عدم اعتماد ہوچکا، ان کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوچکا، کس کس نے سازش کی جب تک سامنے نہیں آئے گا، انصاف نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں بدنظمی دیکھنے میں آئی تھی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 20 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج تاخیر سے ملنے پر الیکشن کمیشن نے اس حلقے کا نتیجہ روک لیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) نے این اے 75 کے پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا تھا۔

مسلم لیگ نون کی اس حلقہ سے امیدوار نوشین افتخار نے کہا کہ ‏یہ تاریخی فیصلہ ہے،ووٹ چوروں کا آیندہ بھی ڈٹ کر مقابلہ کروں گی،

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہناہے کہ ‏تفصیلی فیصلہ دیکھ کر لیگل کمیٹی فیصلہ کرے گی اگلا قدم کیا اٹھانا ہے، ‏ابھی شارٹ آرڈر آیا ہے، ہماری قانونی ٹیم فیصلہ دیکھ کر جائزہ لے گی،‏ادارے مکمل طور پر آزاد ہوں،‏جب تفصیلی فیصلہ آئےگاتواسےدیکھ کراگلےقدم کافیصلہ کریں گے،
‏جو قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ادارے آزاد ہوں گے،اس پر فخر ہے، شبلی فراز نے کہا کہ ‏عدالتی فیصلوں کو مانتے ہیں، سرتسلیم خم ہے،‏ایسا الیکشن کرائیں جس پرکوئی انگلی نہ اٹھائے، شبلی فراز نے کہا کہ ‏یہ اپنے آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے کوئی کارنامہ سر انجام دے دیا ہے، ‏ہمیں پتا ہےکہ رانا ثناءاللہ وہاں کیا کر رہے تھے،

سیالکوٹ کے حلقہ این اے75 ڈسکہ کے انتخابات کے کیس میں 23 پولنگ سٹیشنز کے فارم 45جمع نہیں کراسکی۔ جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی۔ پی ٹی آئی نے دھاندلی کے متعلق کیس میں اپنا وکیل بھی تبدیل کیا تھا۔پی ٹی آئی کے امیدوارعلی اسجد ملہی نے کہا ہمارے پاس تمام فارم 45 نہیں ہیں۔ جو پولنگ ہارے دل برداشتہ ہوکر ہمارے پولنگ ایجنٹ فارم 45 لیئے بغیر آگئے، اکثر پولنگ ایجنٹس دل برداشتہ ہو کر فارم 45 نہیں لیتے۔ممبر کمیشن سکندر سلطان راجہ نے کہا ہم نے سیاسی جماعتوں کو ہدایت کی تھی کہ اپنے پولنگ ایجنٹس کو کہیں کہ فارم 45 لیکر نکلیں۔ ہمیں کوئی شکایت نہیں آئی کہ فارم 45 پولنگ ایجنٹس کو فراہم نہیں کیا گیا۔ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے استدعا کی کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے75 میں دوبارہ الیکشن کرایا جائے۔چیف الیکشن کمشنر نے سوال کیا کہ 20پولنگ سٹیشن کا نتیجہ چھوڑ کر نوشین افتخار جیت رہی ہیں؟۔سلمان اکرم نے جواب دیا جیت تو رہے ہیں لیکن پلان کے مطابق پورے حلقے سے ہمارے ووٹرز کو روکا گیا اور ان 20پولنگ سٹیشن سے مارجن کم کرنے کی کوشش کی گئی،من پسند افسران کو لگانے کا مقصد ن لیگ کے مضبوط پولنگ سٹیشنز پرووٹرز کو ووٹ ڈالنے سے روکنا تھا، جب ووٹرز کو روکنے کے باوجود ہار دکھائی دی تو پریذائیڈنگ افسران کو اغوا کرلیا گیاجن پولنگ سٹیشن کے پی او غائب ہوئے وہاں ووٹنگ کی شرح 80 فیصد رہی۔ یہ واضح سکیم تھی الیکشن میں فراڈ کرنے کی۔ اسکیم تھی نوشین افتخار کے مضبوط علاقوں میں ووٹنگ کم رکھی جائے اور اپنی ہار کی کمی کو 20 پولنگ اسٹیشن سے انہوں نے پورا کیا۔ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ حلقے میں پورے دن فائرنگ ہوتی رہی، پولیس خاموش کھڑی رہی،وہ جانتے تھے کہ ن لیگ کا مرکزی گڑھ کون سے پولنگ سٹیشن ہیں،ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن داخلے سے روکا گیا، ان جگہوں پر ٹرن آئوٹ 35 فیصد سے کم رہا اور دیگر پولنگ سٹیشن میں پچاس فیصد سے اوپر گیا۔پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کسی قانون میں نہیں لکھا کہ پی او کب آئیں گے تو لیٹ تصور ہو گا، قانون میں کوئی ٹائم لمٹ نہیں کہ پی او کب آئے،ہمارے فون بھی بند ہو جاتے ہیں، فون بند ہو جانا کوئی عجیب چیز نہیں۔ ممبر الیکشن کمیشن ارشاد قیصر نے کہا سب کے فون بند ہو گئے، ڈرائیور کے فون بھی بند ہو گئے۔علی ظفر نے کہا کہ میرے مطابق اب مسئلہ 14 پولنگ اسٹیشن کا رہ گیا ہے۔چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجہ نے کہا امیدوار کے پارٹی چئیرمین کہتے ہیں کہ بیس پولنگ سٹیشن پر الیکشن کرایا جائے۔ممبرالیکشن کمیشن الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ ان بیس پولنگ اسٹیشن میں زیادہ ٹرن آوٹ کی کیا وجہ ہے ؟۔پی ٹی آئی کے وکیل نے بتایا یہ اسجد ملہی کے گھر کے پولنگ اسٹیشن ہیں اس لئے ٹرن آئوٹ زیادہ رہا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں