41

کروڑوں روپے مالیت کے ناجائز اثاثے بنانے کا جرم ثابت، کمشنر آفس کے سپرنٹنڈنٹ طلعت اسحاق کو 5 سال قید، ساڑھے 4 کروڑ روپے جرمانہ کی سزا، کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادوں، گاڑیوں سمیت تمام اثاثہ جات ضبط

*کروڑوں روپے مالیت کے ناجائز اثاثے بنانے کا جرم ثابت، کمشنر آفس کے سپرنٹنڈنٹ طلعت اسحاق کو 5 سال قید، ساڑھے 4 کروڑ روپے جرمانہ کی سزا، کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادوں، گاڑیوں سمیت تمام اثاثہ جات ضبط، سرکاری تحویل میں لئے گئےاثاثوں میں ڈی ایچ اے لاہور کے دو بنگلے، دو فلیٹ، 4 پلاٹس، بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کا ایک بنگلہ، کوئٹہ میں دو بنگلے، دو پلاٹ،بینک اکاونٹس میں موجود 20 ملین روپے، ڈیڈھ کروڑ روپے کے سیونگ سرٹیفیکیٹ، 290 تولہ سونا، 4۔26 ملین روپے کی فارن کرنسی، 14 ملین روپے کی جیولری، مرسیڈیز سمیت چار قیمتی گاڑیاں شامل*

احتساب عدالت کوئٹہ نے کروڑوں روپے مالیت کے ناجائز اثاثے بنانے کا جرم ثابت ہونے پر کمشنر آفس کے سپرنٹنڈنٹ طلعت اسحاق کو پانچ سال قید بامشقت ، ساڑھے چار کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنا دی جبکہ ملزم کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں بنائی گئی کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادوں، گاڑیوں سمیت تمام اثاثہ جات کو سرکاری تحویل میں جمع کرانے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔
کیس کی سماعت احتساب عدالت کوئٹہ کے جج منور احمد شاہوانی نے کی جبکہ نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر ضمیر چھلگری نے پیروی کی۔
نیب کی تحقیقات کے مطابق ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ کوئٹہ میں گریڈ 16 کا ملازم طلعت اسحاق نے بحریہ ٹاؤن راولپنڈی DHA لاہو ر اور کوئٹہ میں کروڑوں روپے مالیت کے بنگلوں پلاٹس،مہنگی سپورٹس و دیگر پرتعیش گاڑیوں سمیت کئی قیمتی اثاثہ جات بنائے۔ ملزم سے دوران تفتیش کروڑوں روپے مالیت کا خالص سونا اور جولری اور لاکھوں روپے کی غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہوئی. علاوہ ازیں نیب نے ملزم کے بینک اکاؤنٹ میں رکھے 3 کروڑ 50 ،لاکھ. کا سرا غ لگاکر بینک اکاؤنٹ بھی منجمد کر دئے گئے .
نیب بلوچستان کی انویسٹیگیشن ٹیم نے ملزم کے بناے گۓ اثاثوں کا کامیابی سے سرا حاصل کر کے ملزم کو لاہور سے گرفتار کیا جسے بعد میں احتساب عدالت نے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا تھا. واضح رہے کہ ملزم نے اعتراف جرم کر تے ہوے پلی بارگین کی درخواست بھی دی تھی جسے ڑی جی نیب بلوچستان نے مسترد کر دیا تھا۔
اثاثہ جات کیس میں ملزم اور استغاثہ کو سننے کے بعد نیب کی تحقیقات اور ٹھوس شواہد کی روشنی میں ملزم احتساب عدالت کوئٹہ نے قید وجرمانے کی سزا سنا دی ہے۔
معزز عدالت کے فیصلے کے مطابق ملزم کی جانب سے غیر قانونی بناے گئے ڈی ایچ اے لاہور کے دو بنگلے، دو فلیٹ، 4 پلاٹس، بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کا ایک بنگلہ، کوئٹہ میں دو بنگلے، دو پلاٹ،
بینک اکاونٹس میں موجود 20 ملین روپے، ڈیڈھ کروڑ روپے کے سیونگ سرٹیفیکیٹ، 290 تولہ سونا، 26۔4 ملین روپے کی فارن کرنسی، 14 ملین روپے کی جیولری، مرسیڈیز سمیت چار قیمتی گاڑیاں سرکاری تحویل میں دے دی گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں