113

لاہور میں پولیس کے سپاہی کے بیٹوں نے گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنایا لیکن پولیس کے پیٹی بھائیوں نے پرچہ درج کرنے سے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے 

لاہور میں پولیس کے سپاہی کے بیٹوں نے گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنایا لیکن پولیس کے پیٹی بھائیوں نے پرچہ درج کرنے سے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے 

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے پنجاب پولیس پر شدید کی ان کا کہنا ہے کہ  سبزہ زار ملازمہ تشدد کیس۔ پنجاب پولیس کو کیوں نہ دنیا کی بے شرم ترین پولیس کہا جائے، ابھی تو یہ کانسٹیبل کے بیٹے ہیں جنہیں پولیس گرفتار کرنے حتی کہ 24گھنٹے بعد بھی FIR درج کرنے سے انکاری ہے، متاثرہ لڑکی کا بیان خود سن لیں

‏سبزہ زار لاہور میں کانسٹیبل مرتضی کے بیٹوں نے تشدد کر کے گھریلو ملازمہ ردا کی ٹانگیں توڑ دیں، اہل محلہ کے مطابق ASI امان اللہ کی سربراہی میں پولیس ٹیم آئی اور حسب مزاج اپنی پیٹی بھائی کے بیٹوں کو ہاتھ لگائے بغیر روانہ ہو گئی۔۔۔ وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پولیس

‏سے امید ہے کہ وہ نہ صرف کانسٹیبل کے بیٹوں کو 24 گھنٹوں میں گرفتار کروائیں گے بلکہ کانسٹیبل مرتضی اور اس کی پشت پناہی کرنے والے ASI امان سمیت موقع پر پہنچنے کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہ کرنے پر پوری ٹیم کیخلاف محکمانہ کارروائی کر کے کالی بھیڑوں کو مثالی سزا دیں گے 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں