76

موسم کی خرابی کے باعث وزیراعظم عمران خان لاہور نہ جاسکے ترقیاتی منصوبوں اور شجرکاری کے اجلاس وڈیو کانفرنس پر

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پنجاب ترقیاتی پیکیج کے حوالے سے اجلاس

وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزیرِ خزانہ ہاشم جوان بخت، مشیر وزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر سلمان شاہ، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیف سیکرٹری پنجاب و دیگر سینئر حکام کی اجلاس میں شرکت۔
وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب بھی موجود۔

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے آگاہ کیا کہ مالی سال 22-2021 کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے %66 اضافہ کیا گیا جبکہ گذشتہ سال کے بجٹ کی استعمال کرنے کی شرح %97 رہی جو کہ پچھلے دس سالوں میں ریکارڈ ہے۔ پچھلے سال کل 5889 سکیمیں مکمل کی گئیں۔

سیکریٹری منصوبہ بندی بورڈ پنجاب نے اجلاس کو بتایا کے اس سال بجٹ اہداف پنجاب گروتھ اسٹریٹیجی 2023 کو مد نظر رکھ کر بنائے گئے۔
خاص توجہ معاشی نمو، جامع اور یکساں ترقی، زرعی ترقی، انسانی ترقی، پائدار ترقی کے اہداف، ضلعی ترقیاتی پیکیج ، ماحولیاتی تحفظ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر رکھی گئی۔
اس سال ترقیاتی بجٹ کا کل حجم 560 ارب روپے ہے جس میں 7,116 منصوبے شامل ہیں۔ ان میں %90 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مختلف شعبوں کے لیے رقوم مختص کی گئیں ہیں جن میں 54 ارب روپےتعلیم، 99 ارب روپے صحت، 100 ارب روپے ضلعی ترقیاتی پیکیج، 36.5 ارب روپے زراعت، 11.3 ارب روپے سماجی تحفظ، 12.2 ارب روپے صنعت اور 5 ارب روپے آئی ٹی سیکٹر کے لیے مختص ہیں۔ ترقیاتی بجٹ سے 350,000 روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا تخمینہ ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی امور کے ضمن میں زراعت اور انڈسٹری کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور ان کے بجٹ میں تقریبا تین سو گنا اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے پنجاب ترقیاتی پروگرام کے اہداف کو سراہتے ہوئے ان منصوبوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت دی۔

تمام ضلعی اور متعلقہ اداروں کے افسران منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ذمہ دار ہوں گے۔ وزیر اعظم

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منصوبوں کی تکمیل کی مانیٹرنگ کے لئے نہ صرف جدید سائنسی طریقہ کار کو برؤے کار لایا جائے بلکہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے مسلسل مانیٹڑنگ کا نظام وضع کیا جائے جو کہ اس حوالے سے مسلسل آگاہ رکھے۔

ضلعی ترقیاتی پیکیج پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ عوام کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وزیر اعظم

ہر ضلع میں نوجوانوں کے لئے کھیلوں کے میدان بنائے جائیں تاکہ ان کو صحتمند سرگرمیوں کے لیے مواقع فراہم ہوں۔ وزیر اعظم

پنجاب میں یونیورسل ہیلتھ کیئر کے نظام کا خصو صی طور پر ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ عام آدمی اس سہولت سے مکمل طور پر مستفید ہو اور اس حوالے سے اسے کوئی دقت نہ ہو۔

ترقیاتی پیکیج کا سہ ماہی جائزہ اور پیشرفت رپورٹ سے وزیر اعظم آفس کو بھی آگاہ رکھا جائے۔ وزیر اعظم

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مون سون شجرکاری کے حوالے سے اجلاس

اجلاس میں معاون خصوصی برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم شریک جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ، صوبائی وزیر برائے جنگلات پنجاب محمد سبطین خان، معاون خصوصی برائے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک و دیگر افسران ویڈیو لنک کے ذریعے اجلا س میں شریک
وزیرِ مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب بھی اجلاس میں موجود
مون سون شجرکاری کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو صوبہ پنجاب کے اہداف اور حکمت عملی کے بارے میں بریفنگ
اجلاس کو بتایا گیا کہ حالیہ مون سون شجرکاری میں صوبہ پنجاب سرکردہ کردار ادا کرے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ دور حکومت میں سال 2016 تا 2018محض ایک کروڑ پودا لگایا گیا تھا لیکن موجودہ حکومت میں اب تک کروڑوں پودے اور درخت لگائے جا چکے ہیں۔
صوبائی وزیرِ جنگلات نے بتایا کہ محکمہ جنگلات میں سرسبزپنجاب کے حوالے سے چھ چھ ماہ کے اہداف مقرر کیے ہیں
چئیرمین سی ڈی اے نے اجلا س کو وفاقی دارالحکومت میں شجر کاری مہم کے حوالے سے بھی بریف کیا
وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ کے لئے شجرکاری انتہائی اہم ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخواہ نے بلین ٹری سونامی کے حوالے سے قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔
ماحول کے تحفظ کے حوالے سے حکومت پاکستان کے اقدامات کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ صوبہ پنجاب میں ڈویژن اور اضلاع کی سطح پر شجر کاری کے پلان کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ نہ صرف شجرکاری بلکہ شجرکاری مہم کی مانیٹرنگ اور نتائج کے حوالے سے بھی جدید طریقہ کار کو برؤے کار لایا جائے
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ شجر کاری مہم میں ٹائیگر فورس، طلبا، سول سوسائٹی اور سرکاری و غیر سرکاری محکموں کی بھرپور شرکت بھی یقینی بنانے پر توجہ دی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں