85

ایسے عوامل جوانسانی زندگی کے لئے خطرہ ہیں ان کاخاتمہ فوری طور پرضروری ہے،اس کاموثر ذریعہ ٹیکس کانفاذ ہے،جس پرعمل درآمدکے لئے عملی اقدامات اٹھاناہونگے۔ سرجن جنرل نگار جوھر

ایسے عوامل جوانسانی زندگی کے لئے خطرہ ہیں ان کاخاتمہ فوری طور پرضروری ہے،اس کاموثر ذریعہ ٹیکس کانفاذ ہے،جس پرعمل درآمدکے لئے عملی اقدامات اٹھاناہونگے۔ سرجن جنرل نگار جوھر

پناہ کے زیر انتظام “غیرمواصلاتی امراض “(این سی ڈیز) کے موضوع پردوروزہ انٹرنیشنل کانفرنس کاانعقاد

ہلال امتیاز سرجن جنرل نگارجوہرنے کہاکہ زندگی نعمت ہے اس کی قدر کرنی چاہیے،ایسے عوامل جوانسانی زندگی کے لئے خطرہ ہیں ان کاخاتمہ فوری طور پرضروری ہے،اس کاموثر ذریعہ ٹیکس کانفاذ ہے،جس پرعمل درآمدکے لئے عملی اقدامات اٹھاناہونگے۔

وہ گزشتہ روز پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے زیر انتظام “غیرمواصلاتی امراض “(این سی ڈیز) کے موضوع پررفاع یونیورسٹی میزان کیمپس پشاور روڈ راولپنڈی پردوروزہ انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں،جہاں بطورمہمان خصوصی انھوں نے شرکت کی،ان کے ہمراہ پناہ کے چیئرمین میجرجنرل (ر) مسعود الرحمن کیانی،لیفٹیننٹ جنرل(ر) اظہررشید،میجرجنرل (ر) اشرف خان،لیفٹیننٹ جنرل (ر) کمال اکبر،میجرجنرل مظہراشفاق،میجرجنرل فرحان طیب کمانڈنٹ اے ایف آئی سی،جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن،ماہرامراض دل میجر نصیر احمدسمور،ماہر امراض دل بریگیڈیئرعبدالحمیدصدیقی،رفاع یونیورسٹی پرنسپل لیفٹیننٹ جنرل اظہررشید،صدر پاکستان فیملی فزیشن ڈاکٹر منظوراحمد،کنسلٹنٹ فزیشن ہارٹ انٹرنیشنل کرنل (ر) جنیدسلیم،پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹرشاہداحمد،یونیسف نمائندگان،سی ٹی ایف کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد،،ڈاکٹرشاہد بیگ چیئرمین پاکستان سائنس فاؤنڈیشن،ڈاکٹرشہزاد،مسز ڈاکٹرشمیم سرفراز،ڈاکٹرثمرہ ودیگرنے،جب کہ بیرون ممالک سے یوایس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی یوایس ا ے یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی ڈاکٹر بیری پاپکن،ریجنل ایڈوائزراینڈ نیوٹریشن ڈبلیووایچ اوڈاکٹر ایوب الجوادہ،پروفیسر عبدالباسط،ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکیوبیٹر GHAI،مس الزبیتھ آرلن،کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹDr Nicholas Pantazopoulos نے شرکت کی اورکانفرنس کے شرکاء سے خطاب بھی کیا۔

کانفرنس کاآغاز تلا وت قرآن پاک سے کیاگیا،جس کے بعد باضابطہ طورپرکانفرنس کاآغازکرتے ہوئے غیرمواصلاتی امراض (این سی ڈیز) کے منفی اثرات اوران سے بچاؤ کوزیربحث لایاگیا،کانفرنس تین سیشن پرمشتمل تھا۔میزبانی کے فرائض پروفیسرڈاکٹر شکیل احمدمرزا نے سرانجام دیے،جنھوں نے کانفرنس میں شرکاء کوبتایاکہ مضرصحت عوامل تمباکو،میٹھے مشروبات،چینی،نمک،چکنائی ودیگرکااستعمال کم کرکے ہارٹ اٹیک،ہائی بلڈپریشر،ٹائپ ٹوذیابطیس،کینسر،معدہ،جگر،فالج،موٹاپا ودیگرامراض کاخطرہ کم کیاجاسکتاہے،اس کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پرورزش،چہل قدمی،قدرتی غذاؤں کااستعمال این سی ڈیز میں واضح کمی لاسکتاہے۔

ہلال امتیاز سرجن جنرل نگارجوہرنے کہاکہ پناہ کے قیام کامقصد دل کے امراض سے عوام کوآگاہ کرناہے، آج این سی ڈیز کی وجہ سے پاکستان سمیت تمام دنیا مشکلات سے دوچار ہے،ہردومنٹ بعد ایک شخص کادل کے امراض سے اورپوری دنیامیں چالیس ملین افراد کاسالانہ بنیادپرہلاک ہونا تشویش ناک عمل ہے،چینی کو سفید زہراورمیٹھے مشروبات کااستعمال انسانی زندگی کے لئے خطرہ قرار دے دیاجاچکاہے، لہذا اس پرٹیکس نافذ کرناوقت کی ضرورت ہے،،اس پرپناہ کاکردار قابل تحسین ہے،تین سے زائد دہائیوں سے پناہ کی کاوشوں کی جس قدر حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے،زیادہ تر این سی ڈیز قابل علاج ہیں،بات فقط یہ ہے کہ اس کابروقت تدارک کیاجائے،ایسی چیزوں کی جانب نشاندہی کرنے کے لئے اس طرح کی کانفرنس منعقد کروانا احسن اقدام ہے۔

یوایس ا ے یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی ڈاکٹر بیری پاپکن Dr Barry M Popkin نے Sugar Sweetened Baveragesکے مضر اثرات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ پاکستا ن میں میٹھے کازیادہ استعمال بہت بڑامسئلہ ہے،میٹھے مشروبات کی وجہ سے ہائپرٹینشن، ہائی بلڈپریشراورذیابطیس ودیگر امراض میں اضافہ ہواہے،یہ صرف پاکستان کانہیں پوری دنیا کامسئلہ بن چکاہے،ٹیکس نافذ کرنے سے میٹھے مشروبات کے استعمال کوکم کیاجاسکتاہے،16سے 25فیصد ٹیکس میٹھے مشروبات پرنافذکرناچاہیے،یہی وجہ ہے کہ 45ممالک نے شوگری ڈرنکس پرٹیکس نافذ کرنے کی حمایت کی،10فیصد میکسیکومیں نافذکیاگیا،تو 29فیصدایس ایس بی کی خریداری میں کمی واقع ہوئی۔

کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹDr Nicholas Pantazopoulos نے کہاکہ پاکستان اورہماری ملک کے صحت سے متعلق مسائل ایک جیسے ہیں، دس مین سے ایک فرد دل کی وجہ سے ہلاک ہوتاہے،لہذا ہمیں وززش کرکے 13فیصد اس کے خطرہ کوکم کیاجاسکتاہے،اگرآپ صحت مندنہیں تو آ پ کاکورونا کی وجہ سے ہلاک ہونے کاامکان زیادہ ہے،

پناہ کے چیئرمین میجر جنرل(ر) مسعود الرحمن کیانی نے کہاکہ ہردومنٹ بعد پاکستان میں ایک فرد ہارٹ اٹیک سے جان کی بازی ہارجاتاہے،ہم گزشتہ 37سال سے عوام کودل سمیت دیگربیماریوں کے رسک فیکٹرزسے آگاہ کررہے ہیں،ہم نے ہائی کورٹس،وفاقی محتسب تک گئے تاکہ ٹیکس نافذ کرکے تمباکواورمیٹھے مشروبات سے پیداہونے والے امراض پر قابوپایاجاسکے،اگرہرسال ٹیکس نافذکیاجائے،تواسی تعدادسے ان کی کھپت میں بھی کمی واقع ہوگی،اوراین سی ڈیز میں کمی آنے کے مثبت اثرات رونماہوناشروع ہوجائیں گے۔ہیلتھ لیوی کے نفاذ کی راہ میں طاقت ورقوتیں حائل ہیں،لیکن ابھی تک ہماری جدوجہدجاری ہے۔

کمانڈنٹ اے ایف آئی سی فرحان طیب نے کہاکہ دس فیصد افراد فقط اپنی ذیابطیس کوصحیح معنوں میں کنٹرول کرپاتے ہیں،پاکستان کی46فیصد ہماری آبادی موٹاپاکاشکارہے،62فیصد سٹروکس اور42فیصد کرونک ہارٹ ڈیزیز کاشکارہیں،پوری دنیا میں 1ملین تمباکونوش شامل ہیں،سیکنڈہینڈ سموکنگ کوبھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا،وہ بھی انسانی جسم کے لئے نقصان دہ ہے،حکومت کوچاہیے کہ وہ عوام کوآگہی دے اوراس کے ساتھ ٹیکس نافذ کیاجائے،تمباکوکے اشتہار پرپابندی عائد کی جائے۔

کانفرنس سے دیگرشرکاء نے بھی خطاب کیا،کانفرنس کے اختتام پرمہمانان گرامی میں شیلڈز تقسیم کی گئیں،جس کے بعد انٹرنیشنل کانفرنس کے پہلادن اختتام کوپہنچا۔

پناہ کے زیر انتظام “غیرمواصلاتی امراض “(این سی ڈیز) کے موضوع پردوروزہ انٹرنیشنل کانفرنس کے انعقاد کے پہلے روز میں مہمان خصوصی سرجن جنرل نگارجوہر،چیئرمین پناہ میجرجنرل (ر) مسعودالرحمان کیانی ودیگرشریک ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں