65

بلوچستان اسمبلی میں ہبگامہ آرائی کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ اپوزیشن نے مسترد کر دیا

حکومت بلوچستان نے اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران تالہ بندی ہنگامہ آرائ پر قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈوکیٹ سمیت 16 اراکین کے خلاف 15 دفعات کے تحت بجلی روڈ پولیس تھانے میں ایس ائچ او ناصر کی مدیت میں مقدمات درج کیے ہیں

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ ‏پاکستان میں ظالم ،جابر اور ڈکٹیٹروں کے سامنے جس کسی نے بھی حق کا الم بلند کیا تو قید اذیت گاہیں اور پھانسی کے پھندے اُن کا مقدر رہیں ہیں اور اقتدار اور آرائشوں کا مزے انھوں نے ہی لوٹے جو نسل در نسل چڑتے سورج کے پجاری رہے ہیں
ہمارے لئے یا ان لوگوں کے لئے جو جدوجہد جانتے ہیں جیلیں نئی ​​نہیں ہیں۔ ہم نے کئی سال جیلوں میں گزارے ہیں جیسا کہ ہمارے باپ دادا نے باقی لوگوں کے برعکس کیا ہے .ہم نے ڈکٹیٹروں کا سامنا کیا ہے لہذا کٹھ پتلی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیا کوئی بی اے پی پارٹی کے کسی ممبر کا نام لے سکتا ہے جو جیل گیا ہو؟
ایم پی اے عبدالواحد صدیقی نے کہا کہ ”
‏جام کی پریشانی۔
حملہ بھی اپوزیشن اراکین پر ..زخمی بھی اپوزیشن اراکین لیکن FIR بھی اپوزیشن ارکین کےخلاف … ایسے ظلم اور بادشاہی مزاج کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ”
۔بلوچستان اسمبلی کے رکن ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ
” ‏بلوچستان کے نوجونواں تیار رہو – غزوہ بلوچستان آخری مراحل میں ✌️✌️”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں