76

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کا ایک طالب علم جو اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے جزوقتی طور پہ ڈیلوری بوائے کا کام کرتا تھا، مبینہ طور پہ اسلامی یونیورسٹی ہاسٹل میں گینگ ریپ کا شکار بنایا گیا۔

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کا ایک طالب علم جو اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے جزوقتی طور پہ ڈیلوری بوائے کا کام کرتا تھا، مبینہ طور پہ اسلامی یونیورسٹی ہاسٹل میں گینگ ریپ کا شکار بنایا گیا۔

مزید تفصیل کے مطابق جب متاثرہ نوجوان ایک آرڈر کی ڈلیوری دینے اسلامی یونیورسٹی ہاسٹل پہنچا تو یونیورسٹی کے ایک اہم عہدیدار کے بھائی اور اسکے دوستوں نے نوجوان کو زبردستی گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔ اس درندگی کے نتیجہ میں نوجوان کی حالت غیر ہو گئی اور نوجوان کو ہسپتال لیجایا گیا۔
اسلامی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں قوم لوط کے 4پیروکاروں کی نوجوان سے جنسی زیادتی
اسلام آباد(وجاہت حسین)وفاقی دارالحکومت میں پولیس لائن کے سامنے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نیوکیمپس کے ہاسٹل میں بائیس سالہ نوجوان کو قوم لوط کے پیروکاروں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز صبح فجر کے وقت، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نیوکیمپس کے ہاسٹل سے بائیس سال کا ایک نوجوان لڑکھڑاتا ہوا نکلا۔ پہلی نظر میں تو سیکورٹی والوں کو شک گزرا کہ شاید لڑکا نشے میں ہے اس لئے چلنے میں دشواری ہے۔ لیکن معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ نوجوان قائداعظم یونیورسٹی کا طالب علم ہے اور اسلامی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں اس کا گینگ ریپ ہوا ہے۔بدنصیب نوجوان (عمرعمیر) اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے فارغ اوقات میں ڈیلیوری بوائے کے طورپر مزدوری کرتاہے۔
مبینہ طور پر نوجوان کو فوری طورپر پمز ہسپتال لے جایا گیا۔جہاں اسے ابتدائی طبی امداد کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کے اصرار پر فارغ کردیا گیا۔مبینہ طور پرانتظامیہ کو یونیورسٹی کی بدنامی کا ڈر تھا لیکن متاثرہ لڑکے نے بدنامی کے ڈر سے خاموش رہنے کا مشورہ مسترد کردیا۔ انتظامیہ نے بچے کی تسلی کے لئے ڈسپلن کمیٹی کا ہنگامی اجلاس خفیہ طور پر منعقد کرکے ابراہیم خان اور محمود اشرف کو ’معطل‘ کردیا۔لڑکے کے بیان کے مطابق تین چار لوگوں نے اس کا گینگ ریپ کیا ہے۔ مرکزی ملزم متعلقہ ہاسٹل کے ٹیوٹر کا سگا بھائی ہے جو وہاں غیرقانونی طورپر مقیم ہے۔
مبینہ طور پر پمز میں ہونے والے طبی معائنہ کی رپورٹ میں بھی ردوبدل کیا گیا۔
بلیو ٹی وی کے کرائم رپورٹر وجاہت حسین نے جب موقف لینے کیلئے ریکٹر یونیورسٹی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ان سے رابطہ نہ ہو سکا پی آر او سے رابطہ کیا گیا تو ان کا بھی نمبر بند ملا جبکہ اسلامی یونیورسٹی کے ہی ایک زمہ دار افسر سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ جس لڑکے کے ساتھ زیادتی ہوئی وہ رضامندی کے ساتھ ہی ہوسٹل میں ان لڑکوں کے ساتھ آیااور جیسے ہی یونیورسٹی کی انتظامیہ کے علم میں یہ بات آئی تو فوری طور پر 15پولیس کو کال کی گئی اور لڑکے کو میڈیکل کیلئے یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ہی پمز بھجوایا مگر لڑکے نے اپنا میڈیکل کروانے سے انکار کر دیا اور یہ بیان دیا کہ وہ میرے فرینڈز ہیں میں پہلے بھی ان سے ملتا رہتا ہوں اس لئے ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں چاہتا۔
دوسری طرف زرائع کا یہ کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے لڑکے کو ڈرا دھمکا کر خاموشی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہناہے کہ جو افراد اس واقعہ میں ملوث ہیں ان تمام افراد کے ساتھ ساتھ ہوسٹل میں یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کے بغیر رہنے والے طلبہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونماء نہ ہوں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی مکمل چھان بین کر کے حقائق سامنے لائے جائیں تاکہ والدین اپنے بچوں کو یونیورسٹی داخل کرواتے وقت عدم تحفظ کا شکار نہ ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں