70

چائنیز اور سندھ کے ٹرالرز شکار پر نیشنل پارٹی پسنی کا احتجاجی مظاہرہ چائنیز ٹرالروں کی سرکاری سطح پر پرمٹ نامنظور نامنظور کے نعرے لگائے گئے.

*چائنیز اور سندھ کے ٹرالرز کی شکار پر نیشنل پارٹی پسنی کا احتجاجی مظاہرہ*
چائنیز ٹرالروں کی سرکاری سطح پر پرمٹ نامنظور نامنظور کے نعرے لگائے گئے.
سیاسی، سماجی، سول سوسائٹی اور مختلف طبقہ فکر کے لوگ احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں شریک تھے۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میراشرف حسین بھی خصوصی طور پر شریک تھے.
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میراشرف حسین، ضلعی صدر فیض نگوری، ضلعی جنرل سیکرٹری یوسف عبدارحمٰن، سابق بلدیاتی چیرمین عبدالحکیم بلوچ، سابق بلدیاتی وائس چیئرمین خدابخش سعید، ندیم یاسین، حفیظ جعفر، سلام اللہ، بی این پی مینگل پسنی کے صدر لالا مراد جان، تحصیل آرگنائزر محسن بھٹو، مفتی رحمت اللہ عباسی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم گزشتہ کئی ادوار سے صوبہ سندھ کے غیرقانونی ٹرالنگ سے شدید معاشی بحران کا شکار ہیں .مگر گزشتہ ہفتوں سے غیرملکی چائنیز ٹرالروں کی وفاقی سطح پر سرکاری منظوری سے سمندری حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاجارہاہے جو ہمارا معاشی قتلِ عام ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکران کے ساحل پر گزشتہ چالیس پچاس سالوں سے سندھ کے جاڈو نما ٹرالروں نے یلغار بنا رکھا ہے.
جس کی وجہ سے سمندری حیات کے کئی قسم کے مچھلیاں بے دردی سے روزبروز ختم ہورہی ہیں.
چائنیز ٹرالرز جو جدید لوازمات سے لیز ہوکر شکار پر اتر آئیں تو تباہی مچا دینگے. آنے والے دنوں میں مقامی ماہیگیر دو وقت کی روٹی تک نہ پہنچ سکیں گے.
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے مقامی ماہیگیروں کو سونامی کے سائرن سسٹم کی افتتاح کی ضرورت نہیں ہے. ماہیگیروں کو اپنے روزگار کی تحفظ کی ضرورت ہے.
ماہیگیروں کے قدیم روزگار ماہیگیری کو تحفظ دینا حکومت وقت کی اولین ذمہ داری بنتی ہے. مگر ٹپے پر آنے والے نمائندوں کو عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہے.
انہوں نے کہا کہ چائنیز ٹرالروں کو انڈین پرمٹ ساتھ ہے مگر دیدہ دلیری سے بلوچستان کے سمندری حدود میں شکار کررہے ہیں جو تشویشناک

ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں