108

‏قومی اسمبلی کے سپیکر نے 7 ارکان معطل کردئیے پیپلزپارٹی نےاعتراضات آٹھا دئیے سپیکر کا بلاول سے رابطہ سپیکر پرحکومتی دبائو کا الزام

OP pقومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کا گزشتہ روز کی ہنگامہ آرائی کے الزام میں سات ارکان کو معطل کرنے کا فیصلہ ریلیز ہونے کے چند منٹ کے ابدر متنازعہ ہوگیا
پیپلزپارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے نے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کی قومی اسمبلی کے ڈیسک پر چڑہ کر ہنکامہ ارائی کرنے کی وڈیو شئیر کرتے ہوئے سوال کیا کہ “‏یہ ویڈیو کیا بھوٹان کی اسمبلی کی ہے جو ان صاحب کے داخلے پر پابندی نہیں لگائ گئ ؟ یہ کیسا انوکھا لاڈلہ ہے ۔۔۔”

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی پر ایکشن لیتے ہوئے 7 ممبران اسمبلی کے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گزشتہ روز ایوان میں شدید ہنگامی آرائی کا نوٹس لیا تھا اور اس کی مکمل تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے اس حوالے سے آج ایک اجلاس بلایا جس میں گزشتہ روز کی فوٹیجز دیکھی گئیں اور ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے ممبران پر پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔

قومی اسمبلی سے جاری اعلامیے کے مطابق جن اراکین پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں تحریک انصاف کے تین، (ن) لیگ کے تین اور پیپلزپارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔

اعلامیے کے مطابق اسپیکر نے پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ، (ن) لیگ کے شیخ روحیل اصغر ، علی گوہر خان اور چوہدری حامد حمید پرپابندی عائد کی ہے جب کہ تحریک انصاف کے علی نواز اعوان، عبدالمجید خان اور فہیم خان پر پابندی لگائی گئی ہے۔

7 ممبران اسمبلی کے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے پر پابندی عائد

اعلامیے کےمطابق ان اراکین پر تاحکم ثانی پابندی عائد کی گئی ہے جب کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب اس سلسلے میں متعلقہ اراکین اور اسمبلی سکیورٹی کو احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔

واضح رہےکہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جس دوران اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جب کہ بجٹ کی کاپیاں بھی ایک دوسرے کو ماری گئیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی کا بیان

دوسری جانب اسد قیصر نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ قائدحزب اختلاف کی تقریرکے دوران خلل پیدا کرنے والے ارکان کا رویہ غیر پارلیمانی تھا، ان اراکین کا رویہ نامناسب تھا، ان کے ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں