93

ہندوستان کے علاقے غازی آباد میں معمر بزرگ مسلمان پر ہندو مذہبی جماعت ہندوتوا کے انتہا پسندوں کاحملہ مارا پیٹا جئے شری رام کے نعرہ لگانے پر مجبور کیا اور زبردستی داڑھی کاٹ دی

دو قومی نظریہ کیوں ضروری تھا
کئی دہائیوں پرانے اس سوال کا جواب آج ہمیں روز ملتا ہے کہ دو قومی نظریہ کیوں ضروری تھا
کیوں مسلمان اور ہندو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے
ہندوستان میں ہند کے مسلمانوں پر ایسا کونسا ظلم ہے جو پہلے نہیں ہوا تھا اور آج نہیں ہو رہا
اسی دو قومی نظریے کو دفن کرنے کیلئے ہندوستان و عالم کفر پاکستان کے بکاؤ لوگوں کو خرید کر مسلح جارحیت کروا رہا ہے تاکہ دنیا کو دیکھایا جائے کہ دیکھو کہ سندھی،بلوچی،پنجاچی،پٹھان،گلگتی،کشمیری وغیرہ تو خود میں ہی لڑ رہے ہیں پھر تمہیں ہمارے ساتھ رہنے میں کیا مشکل تھی؟
اس بات کا جواب ہندو کی مذہبی انتہاہ پسندی ہے جو کہ وہ روز کرتا ہے

ہندستان کے علاقے غازی آباد میں معمر بزرگ مسلمان عبد الصمد سیفی پر ہندو مذہبی جماعت ہندوتوا کے انتہا پسندوں نے حملہ کیا انہیں مارا پیٹا اور ان سے جئے شری رام کے نعرہ لگانے پر مجبور کیا اور زبردستی ام کی داڑھی کاٹ دی
یہ ہے ہندو کی انتہاہ پسندی جسے دیکھتے ہوئے ہمارے بزرگوں نے دو قومی نظریہ پیش کیا تھا
مگر آج شاطر ہندو پاکستان کا امن برباد کرکے دو قومی نظریہ کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں ہے مگر ان شاءاللہ اس ناپاک کوشش کو ہم نے ہی ناکام بنانا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں