82

سپریم کورٹ نسلہ ٹاورکیس کراچی کا سسٹم کینیڈاسےچلایاجارہاہےیونس میمن سندھ کا اصل حکمران ہے، نالے صاف نہیں کرسکتے، چیف جسٹس صوبہ کیسے چلائیں گے ؟ سپریم کورٹ کا ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہےکہ سندھ میں حکومت ہے ہی نہیں، یہ ایک نالا صاف نہیں کراسکتے تو صوبہ کیسے چلائیں گے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں شاہراہ فیصل پر ٹاور کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

دوانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ شاہراہ فیصل کا روڈ کبھی کم نہیں ہوا بڑھا ہی ہے اس کے دونوں اطراف کا سروس روڈ انکروچمنٹ کیا گیا ہے، سب کرپٹ ہیں کمشنر بھی کہہ رہے ہیں قبضہ ہے، سارے رفاہی پلاٹس ہیں، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہے، پیسے دیں جو چاہے کریں، سندھ میں حکومت ہے ہی نہیں۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ ان حالات میں صوبہ کیسے گزارا کرے گا؟ ایڈووکیٹ جنرل سندھ بتائیں، آپ سب جانتے ہیں بتائیں ہمیں، آپ کی حکومت کیسے کوئی اور چلا سکتا ہے؟ کسی کو تو کھڑا ہوکر اس کو روکنا ہوگا۔

معزز چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمانی طرز حکومت کا کچھ مطلب ہوتا ہے اور پارلیمانی حکومت مضبوط حکومت ہوتی ہے، جب آپ نالہ صاف نہیں کراسکتے تو صوبہ کیسے چلائیں گے؟ سال پہلے نالہ صاف کرنے کا حکم دیا، روزانہ نئے نئے بہانے۔

جسٹس گلزار نے کہا کہ حکومت کینیڈا سے چلائی جارہی ہے اور کراچی کو یونس میمن کینیڈا سے آپریٹ کررہا ہے، یونس میمن ساری بڈنگ وہاں بیٹھ کر دیکھ رہا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایک تعلیم کا پروجیکٹ 2600 بلین روپے کا 2014 میں شروع ہوا 2017 میں ختم ہوا، ان پیسوں سے دنیا کی بہترین یونیورسٹی بنائی جاسکتی تھی، آر او پلانٹس کا پیسہ 1500 بلین روپے ہے، تھر کے لوگ آج بھی پانی کو ترستے ہیں، سندھ حکومت کے پاس ایک ہی منصوبہ ہے بد سے بدتر بناؤ، آپ لوگ فیصلہ کرلیں کرنا کیا ہے اس طرح حکومت نہیں چلتی بلکہ حکومت ہے ہی نہیں۔

عدالت نے کہا کہ بجٹ کا مطلب اپنے لیے فنڈ مختص کرنا ہوتا ہے عوام کے لیے نہیں، لوگوں کو تو ایک پیسے کا فائدہ نہیں ہوتا۔

بعد ازاں عدالت نے منیر اے ملک کی عدم موجوگی کے باعث سماعت 16 جون تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ نسلہ ٹاورکیس کراچی کا سسٹم کینیڈاسےچلایاجارہاہےیونس میمن سندھ کا اصل حکمران ہے،
نالے صاف نہیں کرسکتے، چیف جسٹس صوبہ کیسے چلائیں گے ؟ سپریم کورٹ کا ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ

کراچی کا سسٹم کینیڈا سے چلایا جارہا ہے ، چیف جسٹس گلزار احمد

کراچی پر کینیڈا سے حکمرانی کی جارہی ہے، چیف جسٹس

یونس میمن سندھ کا اصل حکمران ہے، چیف جسٹس

وہی چلارہا ہے سارا سسٹم ، چیف جسٹس

ایڈوکیٹ جنرل ہم آپ سے بات کررہے ہیں، چیف جسٹس

آپ کی حکومت ہے یہاں کس کی حکومت ہے ؟ چیف جسٹس

یہاں ٹوٹل lawlessness ہے کہاں ہے قانون ؟ چیف جسٹس برہم

یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس

ایسی ہوتی ہے حکمرانی ؟؟؟ چیف جسٹس کا برہمی کا اظہار

آپ لوگ نالے صاف نہیں کرسکتے، چیف جسٹس

صوبہ کیسے چلائیں گے ؟ سپریم کورٹ کا ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ

دو سال ہوگئے آپ نالہ صاف نہیں کرسکے ، چیف جسٹس

کاغذات پر پرانی تاریخ لکھ کر دے رہے ہیں

گورننس نام کی چیز نہیں ہے یہاں ، چیف جسٹس

آپ لوگوں نے سروس روڈ پر بلڈنگ تعمیر کردی ؟ جسٹس اعجاز الحسن

پل کی تعمیر کی وقت سڑک کا سائز کم کیا گیا تھا ، وکیل بلڈر

شاہراہ فیصل کا سائز کبھی کم نہیں ہوا ، چیف جسٹس

آپ نے دونوں اطراف سے سڑک پر قبضہ کیا ہے ، چیف جسٹس گلزار احمد

شاہرا فیصل کو وسیع کرنے کیلئے تو فوجیوں نے بھی زمین دے دی تھی، چیف جسٹس

پتا نہیں کیا ہورہا ہے یہاں پر ؟ مسلسل قبضے کیے جارہے ہیں ، چیف جسٹس

ہمارے سامنے کمشنر کی رپورٹ موجود ہے نسلہ ٹاور میں غیر قانونی تعمیرات شامل ہیں ، چیف جسٹس

اب بھی قبضے ہورہے ہیں انہیں کوئی فکر نہیں ،چیف جسٹس

دھندا شروع کیا ہوا ہے ، یا تو ہم پچاس لوگوں کو بند کردیں ، چیف جسٹس

ان لوگوں کو جیل بھیجنے سے مسلہ حل ہوگا ، چیف جسٹس

سارے رفاعی پلاٹوں پر پلازے بن گئے ، چیف جسٹس

آپ کے احکامات کے بعد کارروائی ہوئی ، ایڈوکیٹ جنرل

اب بھی دھندا چل رہا ہے ایس بی سی اے کا کام چل رہا ہے ، چیف جسٹس

جو پیسہ دیتا ہے اس کا کام ہوجاتا ہے کتنا ہی غیر قانونی کام ہو ، چیف جسٹس

حکومت کہاں ہے ؟؟ کون ذمہ داری لے گا ؟؟؟ سپریم کورٹ

آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہے جھوٹی رپورٹس پیش کردیتے ہیں ، عدالت

سمجھتے ہیں عدالت کو پتا نہیں چلے گا ؟ چیف جسٹس

نسلہ ٹاور سے متعلق سماعت 16 جون تک ملتوی

عدالت نے نسلہ ٹاور کے وکلا سے کمشنر کراچی کی رپورٹ پر جواب طلب کرلیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں