94

مسلح شخص کی کراچی میں پیپلزپارٹی کے رکن کے گھس کر اہل خانہ پر تشدد کے خلاف احتجاج خود سوزی کی دہمکی

پی پی پی کے سینئر کارکن وارث بلوچ کا اہل خانہ زوجہ شہناز بلوچ بیٹی حنا اور سماجی کارکنان میر حمل بلوچ، غفار بگٹی، یوسف مری، جعفر مری کے ہمراہ لیاقت آباد میں اپنے گھر میں فیضان بندہانی نامی مسلح شخص کے حملے زوجہ اور بیٹیوں پر تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور ملزم کی گرفتاری کے لئے شدید نعرے بازی کی اس موقع پر وارث بلوچ کی زوجہ شہناز اور بیٹی حنا نے آہ و زاری کرتے ہوئے اچانک خودسوزی کی کوشش کی اس دوران صحافیوں اور لوگوں نے انہیں جلنے سے بچالیا جبکہ ان کے ڈوپٹے جل کر راکھ ہوگئے احتجاج کے دوران ان کا کہنا تھا کہ 15 روز قبل فیضان بندہانی مسلح شخص گھر میں داخل ہوا مجھے اور میری بیٹی کو تشدد کا نشانہ بناکر دہمکیاں دے کر فرار ہوگیا ہم نے لیاقت آباد تھانے میں ملزم کو نامزد کرکے مقدمہ درج کروایا لیکن تاحال ملزم کو گرفتار نہیں کیا جارہا جس سے ہماری عزتیں اور زندگیاں داؤ پر لگی ہیں انہوں نے پی پی پی کی قیادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی زندگع پی پی پی کے لئے وقف کردی لیکن آج اس مشکل گھڑی میں پی پی پی کی مرکزی اور مقامی قیادت ہماری بچہوں کے سروں پر دست شفقت رکھنے کو تعار نہیں اگر ایسا واقعہ کسی بااظر کے ساتھ ہوتا تو پورا کراچی شہر ہل کر رہ جاتا انہوں نے وزیر اعلی سندھ، آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز، ایڈشنل آئی جی کراچی سے مطالبہ کہا کہ گھر پر حملے میں ملوث ملزم فیضان بندہانی کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے بصور ت دیگر ہم کراچی پریس کلب کے سامنے بیٹیوں سمیت خودسوزی کرینگے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں