67

 ‏وفاقی بجٹ 2021-2022 کے مطابق کسانوں کو ہر فصل کے لیے 1,50,000 روپے بغیر سود کے قرضے دئیے جائیں گے ، اس سے یقینی طور پر کسانوں کو بہت بڑی سپورٹ ملے گی اور ان شااللّہ پاکستان میں زراعت کا سیکٹر اپنی بلندیوں کو چھوئے گا

 تین منٹ سے لمبی کال، ایس ایم ایس اور موبائل-فون ڈیٹا مزید مہنگا

 وفاق  “ بھٹو “ دفن کرنے کے لیے سندھ میں 444 ارب  خرچ کرے گا

 وفاق کا صحت کے لیے 30 ارب جبکہ اعلی تعلیم کے لیے 44 ارب مختص !

 گھی پر وفاقی ٹیکس ختم کررہے ہیں 

وزیر خزانہ

 ‏قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے 54 ارب روپے مختص

[بڑا ریلیف: کسٹم ڈیوٹی 11 سے 3 فیصد کردی گئی کس آمدنی میں ٪15اضافہ  

‏ترسیلات زر میں ٪25 اضافہ

‏ ٹیکس وصولیوں میں ٪18 اضافہ

‏کم آمدنی والوں کے لیے گھر بنانے کے لیے 300000 کی سبسڈی

‏ ترقیاتی بجٹ میں ٪40 اضافہ

‏بجلی کی زیادہ کھپت والی صنعتوں کے لیے مراعات کا اعلان

‏احساس پروگرام کے لیے 260 ارب مختص

‏یہ ہے ⁧‫: 850 سی سی تک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس شرح 17 سے کم کرکے 12.5 فیصد تک کرنے کا فیصلہ ⁧‫ مورخ لکھے گا کہ پہلی بار ریاست نے جو کچھ سال بھر کمایا نچلے طبقے میں بانٹ دیا.

‏ایک بہترین بجٹ بہت سے ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی ، تنخواہ دار پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔۔

‏کم ازکم تنخواہ 20 ہزار کر دی گئی،  کسانوں کے لیے نئی بلاسود قرضہ سکیم اور احساس پروگرام

 مالی سال 2022-2021ء کا وفاقی بجٹ پیش، قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی،  وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود

 حکومت کا آئندہ سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر نیا ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ

‏وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافے کی منظوری دے دی

‏⁧‫اس بجٹ میں عوام کے لیے اتنا کچھ ہے کہ اپوزیشن کی بکواس اور میڈیا کا پروپگنڈہ دونوں اگلے 1 ماہ میں کمزور ہوتا نظر آئے گا عوام کو

احساس پروگرام کیلئے 260 ارب روپے مختص 

کسانوں کو ہر فصل کیلئے ڈیڑھ لاکھ روپے قرضہ ملے گا 

وزیر خزانہ

یکم جولائی سے ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا، 

 ٹیکسٹائل انڈسٹری پر دھاگہ منگوانے پر جو چھ پرسنٹ ٹیکس تھا وہ۔ ختم۔

‏⁧‫‬⁩

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں