94

اینکر اقرار الحسن نے سرعام ایک شہری کو تھپڑ ماردیا سوشل میڈیا پر بحث کا نیا سلسلہ

کراچی میں اے آر وائی کے بدنام زمانہ اینکر اقرار الحسن کی کیمرہ میں کے ساتھ ایک شخص کو سرعام تھپڑ مارنے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور عامل صحافیوں نے اقرار الحسن کے رویہ کی مذمت کی ہے

سینئر صحافی وحید مراد کا کہنا کہ “‏بڑا بلیک میلر کون ہے؟ ‎@iqrarulhassan یا مائیک پکڑیں یا بدمعاشی کریں۔ دونوں کام ایک ساتھ میڈیا کے نام پر نہ کریں ”

سینئر تجزیہ نگار اور ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل مرتضی سولنگی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقرار الحسن کو فوری گرفتار کیا جائے انہون نے کہا کہ ” اس شخص کو نہ صرف مارنے کے الزام میں بلکہ اس کے ساتھ ہی موب لیچنگ کا اہتمام کرنے پر بھی اسے گرفتار کیا جانا چاہئے۔ اس کی گرفتاری کرو۔ ”
اسلام آباد کے صحافی علی عمران عباسی کا کہنا کہ ” ‏افسوس ہے یہ خود کو صحافی کہتا ہے اسے کس نے حق دیا کہ یہ کسی شخص کو تھپٹر مار سکے او بھئی پہلے صحافت سیکھو تھرتھلی مچانا کہاں کی صحافت ہے آپ اپناموقف لو اور پروگرام کرو جو صحافی کا کام ہے اس طرح پبلک میں کھڑے ہو کر کسی شہری کو تھپڑ مارنا گھٹیا حرکت ہے؟ ”
۔
اقرار الحسن نے سماجی روابط کی ویب سائٹ پر ٹویٹر پر وضاحت کرتے ہوئے تھپڑ مارنے کی وجہ بتائی ” ‏بارہ سالہ بچی کو باندھ کر اس کی برہنہ ویڈیو بنانے والے شخص کو میں نے تھپڑ کیوں مارا ؟ صرف وجہ بتا رہا ہوں، اپنے اس عمل کا دفاع نہیں کر رہا۔ یہ ویڈیو دیکھیں گے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ میری جگہ آپ ہوتے تو آپ بھی یہی کرتے، پھر بھی میرے ہاتھ اُٹھانے کا کوئی
جواز نہیں۔ مجھے ندامت ہے ”

اقرار الحسن کے ذرس صدر پولیس اسٹیشن کی حدود جناح اسپتال اوپی ڈی کے احاطے میں سبزی منڈی کے رھائشی اھلکار شوکت آفریدی نے خاتون نگینہ کو حراساں کیا اور دھمکیاں دیں خاتون کے مطابق شوکت آفریدی اسکا پڑوسی ھے اسے کافی عرصہ سے پریشان کر رھا تھا مورخہ 21 مئی کو میں جناح اسپتال آئی تو شوکت آفریدی بھی اپنی کار میں آ گیا اور مجھے سیکسوئیل حراساں کیا اور مجھ سے ھاتھ پائی کی تو میں نے اقرار الحسن اینکر سے رابطہ کیا جو مجھ سے پہلے ھی رابطے میں تھے پولیس بھی انکے ھمراہ تھی فورا موقع پر پہنچے اور شوکت آفریدی کو گرفتار کرلیا گیا

موقع پر سوال جواب کے دوران اقرار الحسن طیش میں آگے اور شوکت آفریدی کو تھپڑ جڑدیا بلکہ موقع پر موجود عوام کو بھی تشدد پر اکسایا جنہوں نے بھی شوکت آفریدی کو مارپیٹ کی

ملزم شوکت نے جو جرم کیا پولیس نے مقدمہ درج کرلیا اقرار الحسن کے اس اقدام کو عوام نے خوب سراھا مگر اقرار الحسن کو یہ حق کس نے دی

اقرار الحسن نے جو کام کیا، وہ ماورائے آئین اور قانون درست اقدام تھا، جبکہ وڈیو ثبوت کے مطابق اقرار الحسن نے جرم کرنے میں پہل کی ہے۔
لمحہ فکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں