100

رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی بیوہ اور اے این پی کی سابق صوبائی صدر بیگم نسیم ولی وفات پاگئیں

رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی شریک حیات (بیوہ) اور عوامی نیشنل پارٹی کی سابق صوبائی صدر بیگم نسیم ولی خان بقضائے الہی وفات پاگئی ہے۔ انکی نمازجنازہ آج شام چھ بجے ولی باغ چارسدہ میں ادا کی جائیگی۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون

. اے این پی کے بانی صدر خان عبدالولی خان کی بیوہ بیگم نسیم ولی 85 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں
عوامی نیشنل پارٹی کے بانی صدر اور رہبرتحریک خان عبدالولی خان کی بیوہ بیگم نسیم ولی خان24جنوری 1936 کو خدائی خدمتگار تحریک کے اہم رکن اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیرحیدر خان ہوتی کے دادا امیرمحمد خان ہوتی کے ہاں مردان پارہوتی میں پیدا ہوئیں۔ وہ خان عبدالولی خان کی دوسری اہلیہ تھیں اور انکی شادی 1954 میں ہوئی تھی۔بیگم نسیم ولی خان نے 1975ء میں پاکستان کی سیاست میں قدم رکھاجب رہبرتحریک خان عبدالولی خان کو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ انکی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی بھی لگائی گئی۔انہوں نے ایسےوقت میں پارٹی کا کنٹرول سنبھالا جب ذوالفقارعلی بھٹو کے بنائے ہوئے حیدرآباد ٹریبونل کیس نیشنل عوامی پارٹی کی پہلی اور دوسری صف کی قیادت جیل میں تھی اور سیاست کی خالی گدی سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے سیاسی گدی بھی سنبھالی جنہوں نے اس نام نہاد کیس کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ سیاسی قیادت کی خلا بھی پر کی۔ بیگم نسیم ولی خان کی کوششوں ہی کی وجہ سے حیدرآباد سازش کیس ختم کیا گیا اور کامیاب پیروی پر اس کیس میں نامزد تمام ملزمان کو باعزت بری کردیا گیا۔
حیدرآباد سازش کیس کے نازک موڑ پر سیاست میں قدم رکھنے والی بیگم نسیم ولی خان نے ان تمام مفروضوں کو غلط ثابت کیا کہ پشتون معاشرے میں صرف مرد ہی پاکستانی سیاست میں قیادت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اسی دوران نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی جس کیلئے اس وقت کے قیدرہنماؤں خان عبدالولی خان اور سردار شیربازمزاری سے بھی مشاورت کی گئی۔ اسی تحریک کی وجہ سے نیشنل عوامی پارٹی کے اسیر رہنماؤں کو رہائی ملی اور ملک بھر میں کارکنان کو منظم کیا گیا۔ انہیں خیبرپختونخوا کی پہلی منتخب رکن پارلیمنٹ کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ 1977 میں چارسدہ اور مردان کے قومی اسمبلی (این اے 4 اور این اے 8) کے حلقوں پر بیک وقت رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔تاہم انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا کیونکہ اس وقت این ڈی پی کی تحریک زوروں پر تھی اور مارشل لاء نافذ کیا گیا۔
1986ء میں اے این پی کی بنیاد رکھی گئی تو خان عبدالولی خان مرکزی صدر جبکہ افضل خان لالا صوبائی صدرمنتخب ہوئے۔1994ء میں وہ پہلی بار عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کی صدر منتخب ہوئیں۔ 1998ء میں ایک بار پھر صوبائی صدر منتخب کردی گئیں۔
پارلیمانی انتخابات میں پہلی بار انہوں نے 1988ء میں چارسدہ پی ایف 13 سے حصہ لیا اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی۔ 1990ء میں بھی پی ایف 13 اور 1993ء میں پی ایف 15 سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئیں۔1997ء میں پی ایف 15 چارسدہ سے خیبرپختونخوا اسمبلی (اس وقت کی سرحد اسمبلی)کی رکن منتخب ہوئیں۔ وہ چار مرتبہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی پارلیمانی لیڈر بھی رہی ہیں۔بیگم نسیم ولی خان 1990ء اور 1997ء کے دوران صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہی۔
سابق صوبائی صدر بیگم نسیم ولی خان کی وفات پر اے این پی کا صوبہ پھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان
صوبہ بھر میں پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں معطل اور پارٹی پرچم سرنگوں رہے گا، ایمل ولی خان
مور بی بی بیگم نسیم ولی خان سیاست میں مزاحمت کا استعارہ تھیں
خواتین کی سیاست میں شمولیت کے لئے ان کا کردار تاریخ کا ایک روشن باب ہے
جن مشکل حالات میں انہوں نے پارٹی کی بھاگ دوڑ سنبھالی تھی اس کی نظیر نہیں ملتی
ان کی وفات سے پاکستان کی سیاست میں پیدا ہونے والا خلا بہ مشکل پورا ہوگا
پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا نے اے این پی کے بانی صدر خان عبدالولی خان کی بیوہ اور سابق صوبائی صدربیگم نسیم ولی کی وفات پر صوبہ بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں معطل رہیں گی اور باچا خان مرکز سمیت تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر پارٹی پرچم سرنگوں رہیں گے۔باچا خان مرکز پشاور سے جاری بیان میں ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ مور بی بی بیگم نسیم ولی خان خیبر پختونخوا کی سیاست میں میں مزاحمت کا استعارہ تھیں، خواتین کی سیاست میں شمولیت کے لئے ان کا کردار تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔جن مشکل حالات میں انہوں نے پارٹی کی بھاگ دوڑ سنبھالی تھی اور جس کامیابی سے وہ پارٹی کو آگے لے کر گئی تھی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان کی وفات سے پاکستان کی سیاست میں پیدا ہونے والا خلا بہ مشکل پورا ہوگا۔

‏پنجاب اسمبلی میں قاید حزب اختلاف میاں حمزہ شہباز کا اے این پی کی رہنما بیگم نسیم ولی خان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار

بیگم نسیم ولی خان کے پی کے کی پہلی خاتون تھیں جو منتخب ہو کر اسمبلی پہنچیں،حمزہ شہباز

پیر نور الحق قادری کا بیگم نسیم ولی خان کی رحلت پر تعزیتی پیغام

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مرحومہ کو غریق رحمت میں جگہ دے: وفاقی وزیر مذہبی امور

انکی پارٹی، پسماندگان اور متعلقین سے اظہار تعزیت کرتا ہوں: پیر نور الحق قادری

دکھ کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندان کے ساتھ ہیں: پیر نور الحق قادریقادری
جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف نے بیگم نسیم ولی خان کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ‏بیگم نسیم ولی خان کے انتقال پر بہت افسوس ہوا
اللہ تعالی مرحومہ کی مغفرت فرمائے درجات بلند کرے ،اللہ لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے ،تمام اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں