94

صحافی اسد علی طور کر نوٹس پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ایف آئی اے ہمیشہ یکطرفہ کاروائی کرتے رہی ہے اور ہم نے کبھی عدالت میں نہیں دیکھا کہ کسی حکومتی شخصیت کے خلاف ایف آئی اے کیس بنا کر لائی ہو۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی آبزرویش

ایف آئی اے کے صحافی اسد علی طور کر نوٹس پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں سماعت

صحافی اسد علی طور کی نمائندگی وُکلا عُثمان وڑائچ اور ایمان مزاری نے کی

جسٹس اطہر من اللہ کے سماعت کے دوران اہم ریمارکس، سوالات اور آبزرویشن

کیا اپوزیشن لیڈر وزیرِاعظم کے خلاف درخواست کرے کہ میری توہین کی ہے تو وزیراعظم کو ایف آئی اے نوٹس کرے گی؟ سمن کرے گی؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ کا ایف آئی اے سے سوال

ایف آئی اے نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ایف آئی اے ہمیشہ یکطرفہ کاروائی کرتے رہی ہے اور ہم نے کبھی عدالت میں نہیں دیکھا کہ ایف آئی اے کسی حکومتی شخصیت کے خلاف کیس بنا کر لائی ہو۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی آبزرویشن

تحقیق کرکے بتائیں دُنیا کے کتنے مُمالک میں توہین کے الزام کو فوجداری جرم مانا گیا ہو؟ چیف جسٹس کا ایف آئی اے کوحُکم

ایف آئی اے کے نوٹسز سنسرشپ کی بدترین مثال ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی آبزرویشن

اگر تنقید پر کاروائی شروع کردی تو بات کہیں نہیں رُکے گی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ

دُنیا کے کئی مُمالک میں جب قانون سازوں نے توہین کو فوجداری کا قانون بنانے کی کوشش کی تو عدالت نے اسٹرائک ڈاؤن کردیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ

اگر آپ نوٹس جاری کرنے لگ جائیں گے تو مُلک میں کوئی بھی نہیں بولے گا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ

صحافی اور اینکر روز کسی نہ کسی پر تنقید کرتے چور کر الزامات لگاتے۔ اگر ایسے نوٹس جاری ہونے لگے تو سب کو بند کرنا پڑ جائے گا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ

اِس عدالت کے بارے میں بہت توہین آمیز باتیں گی گئیں لیکن ایف آئی اے نے کبھی کروائی نہیں کی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ

آرڈر
عابد حسن منٹو، حامد خان اور پاکستان بار کونسل کو عدالتی معاون مقرر کیا گیا ہے

تینوں عدالت کی معاونت کریں کہ کیا سیکشن 20 آئین کے آرٹیکلز 14, 19, 19A سے متصادم ہے؟

کیا توہین کو فوجداری کا جرم بنایا جاسکتا ہے؟

اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں