120

بھارت سےبات چیت کایہ مطلب نہیں کہ آپ کشمیرکاسودا کرکےواپس آجائیں مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ نون کی مرکزی نائب صدر محترمہ مریم نواز نے آرمی جیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نواز شریف کے بارے میں ایک بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہیں اسلامآباد میں صحافیوں سے گفتگو انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ‎بھارت سےبات چیت کایہ مطلب نہیں کہ آپ کشمیرکاسودا کرکےواپس آجائیں، لوگوں پرحملہ کرناکسی کوگولی مارنا یہ ختم ہوناچاہیے ابصارعالم چیئرمین پیمرا رہےہیں انہیں پتا ہےمعاملات کوکیسے چلایاجاتاہے ابصارعالم پراسلام آبادمیں حملہ کیاگیا اس کی بھرپورمذمت کرتی ہوں شفقت محمود سےپوچھوں گی کہ اگر آپ کی اولادہوتوکیا ان کوبھی ایسےخطرےمیں ڈالیں گے اگرایک بھی بچے کوکوروناہواتووالدین سے کہوں گی کہ عمران خان کیخلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے، اگرکشمیرمیں جھرلوپھیراگیاتوعوام بھرپورمزاحمت کریں گے، اگر ن لیگ کےمینڈیٹ پرکسی نے ڈاکاڈالاتو کسی کیلئے آسان نہیں ہوگا، اےاوراو لیول کےطلبا کےامتحانات ریجن بھر میں ملتوی ہوئے ہیں اےاوراو لیول کےطلبا کےامتحانات ریجن بھر میں ملتوی ہوئے ہیں مسلم لیگ اب پرانی جماعت نہیں رہی جوشرافت سےمارکھا جاتی تھی، پوری دنیامیں اےاولیول کےامتحانات ملتوی کیےگئے، پاکستان میں حکومت کورونامیں ناکام ہوئی ہے، عمران خان کسی اورکواین آر اونہیں اپنےآپ کودے رہے ہیں ، میں نےکہاتھا کہ ہم توبرداشت کرلیں گےعوام 5سال یہ حکومت برداشت نہیں کرے گی ہم چاہتےہیں کہ اس لعنت کاہمیشہ کےلیے خاتمہ ہو، آزادکشمیرجائیں گےعوام کےساتھ مل کرالیکشن مہم چلائیں گے

‎انھوں نےکشمیر پہلےہی بھارت کی جھولی میں پھینک دیا، ہم تو برداشت کرلیں گے لیکن عوام اس حکومت کو برداشت نہیں کریں گے۔
‏انہوں نے کشمیر بھارت کی جھولی میں ڈال دیا ہے ۔
‏عمران خان اپنے دوست کو نہیں خود کو این آر او دے رہے ہیں
‏اب مخالف گروپ عمران خان کو مزید تنگ کرے گا انتخابات میں زیادہ مشکل ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں