110

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تھانہ ترنول کی حدود سرائے خربوزہ بے بس مجبور اور لاچار خاتون انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تھانہ ترنول کی حدود سرائے خربوزہ بے بس مجبور اور لاچار خاتون انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور

وفاقی دارالحکومت کی مثالیں پولیس کا انصاف کے لئے دوہرا معیار برقرار

تھانہ ترنول پولیس نے ایک دفعہ پھر مافیا کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے

فرزانہ نامی خاتون جس کا اپنے رشتہ داروں سے زمین کے تنازعہ پر جھگڑا ہوا

جس پر اس کے رشتہ دار اسحاق نامی شخص نے چوری کی جھوٹی ایف آئی آر عورت اور اس کے خاوند پر کروائی

تھانہ ترنول پولیس نے چوری کی درخواست کی تحقیق کرنا گوارا پسند نہ کیا

ایف آئی آر درج کرنے کے بعد دونوں میاں بیوی کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا

اس کے بعد ان ظالموں نے فرزانہ گھر توڑ پھوڑ کی معصوم بچوں کو مارا پیٹا اور گھر کا سارا کی قیمتی سامان چوری کر لیا گیا

فرزانہ جب اپنی زمانت کروا کے جیل سے باہر آئیں اس نے اس تمام تر وقوع کی درخواست جس کی ویڈیوز اور تصویریں موجود تھی

تھانہ ترنول پولیس کو دی پولس ٹس سے مس نہ ہوئی سب انسپکٹر تھانہترنول نواب خان نے فرزانہ نامی خاتون کو تھانے سے بےعزت کرکے نکال دیا

اس کے بعد خدا نامی عورت انصاف کے لئے ایک کبھی ایس پی کبھی ڈی ایس پی اور کبھی آئی جی کے پاس چکر لگانے پر مجبور

وفاقی دارالحکومت پولیس کا دوہرہ معیار برقرارعورت اس کے معصوم بچوں اور اس کے بھائیوں کے بیان کے باوجود انکوائری شروع کر دی گئی

فرزانہ نامی خاتون کا کہنا ہے اس کا خاوند جھوٹی ایف آئی آر میں اڈیالہ جیل میں ہے

میں معصوم بچوں کے ساتھ انصاف کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوں

حکومتی نمائندوں کے ساتھ ساتھ پولیس کے افسران سے میری اپیل ہے خدارا آپ لوگ میرے گھر آہیں میرے گھر کے حالات اور میرے گھر کی در و دیوار

اور میرے گھر کے معصوم بچے آپ کو بتائیں گے میرے ساتھ جو ظلم و ستم ہو رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں