96

روزنامہ امت میں بازاری زبان کے استعمال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کراچی یونین آف جرنلٹس نےاسے صحافتی اقدار کی سنگین پامالی قرار دیتے ہوئےاخبار کے مالک سے تمام ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

کراچی یونین آف جرنلٹس نے کراچی کے ایک مقامی اخبار روزنامہ امت میں بازاری زبان کے استعمال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اسے صحافتی اقدار کی سنگین پامالی قرار دیتے ہوئے امت اخبار کے مالک رفیق افغان سے نیوز ایڈیٹر سمیت تمام ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے کراچی یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی کے مطابق کراچی یونین آف جرنلسٹس نے رفیق افغان سے اخبار میں فوری طور معذرت شایع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی، جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام ارکان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کے یو جے چند روز سے اخبارات میں صحافتی اقدار اور اظہار رائے کے غیر مناسب برتاؤ کو بغور دیکھ رہی ہے اور اس سلسلے میں بطور خاص روزنامہ امت کراچی کے غیر صحافتی انداز کا جائزہ لیا گیا اور کے یو جے یہ سمجھتی ہے امت اخبار کا یہ طرز عمل معاشرے میں انتشار پھیلانے کی کوششوں کے مترادف ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امت اخبار کی موجودہ صحافت کسی طور صحافتی قدروں کے شایان شان ہے اور نہ ہی اشتعال پر مبنی خبریں اظہار رائے کے مسلمہ اصولوں کے عین مطابق ہیں، ملک میں صحافیانہ اقدار کو ہمیشہ سر بلند رکھنےوالی تنظیم کراچی یونین آف جرنلٹس ایسے اقدامات پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتی ہے اور اخباری مالکان کی تنظیم اے پی این ایس اور ایڈیٹرز کی تنظیم سی پی این ای سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس سلسلے کو فوری طور پر روکیں اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کریں کراچی یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اختلاف رائے سب کا حق ہے لیکن اس کے لیے اخبار کا استعمال قابل مذمت ہے امت اخبار جس زبان کا استعمال کررہا ہے وہ انتہائی گری ہوئی زبان ہے جو کسی صحافی یا صحافتی ادارے کو زیب نہیں دیتی بیان کے آخر میں ایک دفعہ پھر ذمے داروں کیخلاف کارروائی اور معذرت کی اشاعت کا مطالبہ دہرایا گیاہے۔
تبصرے
اخبار امت ہو یا اس کے گھٹیا سوچ رکھنے والے نام نہاد اسلام پرست عورت کی توہین کرنے والے لکھاری – اسی طرح ہمارے المعروف گُڈ کولنگ جماعت اسلامی کے رہنما وزیر اعظم جن کو طالبان خان انکی انتہا پسندانہ سوچ رکھنے پر کہا جاتا ہے ۔ ان کے اسلامی جمہوریہ کے نام پر بنے ملک ہاکستان میں عورت کا لباس ہو یا وہ بے لباس ان کی سوچ میں ریپ کی اجازت دیتا ہے اس کے برعکس جب کبھی یہ لکیر سے گزرے ہوتے ہیں تو ان کو مغرب یاد آتا ہے وہاں کی اقدار و انصاف مگر یہ یاد نہی آتا کہ مغرب جہاں عورت انتہائ بے لباس بھی ہو تو بھی کسی مرد کو نہ قانون اجازت دیتا ہے اور نہ وہ اس جرم سے بچ سکتا ہے اور ان وزیر اعظم سمیت ان کے جیسی سوچ والے اسلام کو بدنام و اپنے مطلب کی توجیح لے کر ریپ زدہ مظلوم سے بھی چار گواہ مانگتے ہیں اور انصاف تو خیر اسی طرح دیا جاتا ہے جیسے انُکی تنظیم تحریک انصاف اور اس کا ملک کو بربادی تک پہنچانا –

میرے دیرینہ دوست وسعت اللہ کے پروگرام زرا ہٹ کے سے معلوم ہوا کہ عورت کی توہین ہر آواز اٹھانی جارہی ہے اور خوش آئند بات ہے کہ عارف نظامی نے امت کی شایع کی گئ توہین عورت ہر آواز اٹھائ اور انہوں نے دونوں اہم اداروں سی پی این ای اور اے پی این ایس سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس توہین کی مذمت کریں – ساتھ کراچی یونین آف جرنلسٹ کے فہیم صدیقی و اراکین کی جانب سے بھی امت کی جانب اے عورت کی توہین پر آواز اٹھائ گئ ہے ۔ مگر افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ہمارا وزیر اعظم جو نا انصافی کی تحریک عظیم علمبردار ہے کہتا ہے کہ ریپ بے لباسی کی وجہ سے ہوتا ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں