14

1150 افراد ریڈیو پاکستان سے نکال کر 18 کروڑ روپے کی سالانہ بچت کے دعوےداروں نے کنٹرکٹ پد 1850 افراد رکھ کر خرچہ 24 کروڑ تک بڑھادہا وزیراعظم کے سیکرٹری کے اسفتسار پر سیکرٹری اطلاعات کی لاعلمی

1150 افراد ریڈیو پاکستان سے نکال کر 18 کروڑ روپے کی سالانہ بچت کے دعوےداروں نے کنٹرکٹ پد 1850 افراد رکھ کر خرچہ 24 کروڑ تک بڑھادہا وزیراعظم کے سیکرٹری کے اسفتسار پر سیکرٹری اطلاعات کی لاعلمی

[{وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری اطلاعات و نشریات اور ڈائریکٹر جنرل پی بی سی کے ذہنوں میں ریڈیو پاکستان کے آرٹسٹوں کی ماہانہ بکنگ کے بارے میں ایک گمراہ کن اور سنگین مغالطہ۔}]

ریڈیو پاکستان کے موجودہ سنگین مالیاتی بحران، تنخواہوں، پینشن، میڈیکل وغیرہ کی عدم ادائیگی، مین اسٹریم و سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں آنے والی خبروں، اپیلوں اور تنقید کے تناظر میں وزیر اعظم آفس اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے ایک میٹنگ طلب کی، جس میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری جناب ڈاکٹر توقیر احمد شاہ، سیکرٹری اطلاعات و نشریات محترمہ شاہیرہ شاہد اور سیکرٹری فنانس جناب حمید یعقوب شیخ نے شرکت کرکے صورت حال کا بغور جائزہ لیا۔
اس میٹینگ میں دیگر سارے امور کے علاؤہ پی بی سی کی طرف سے دو فہرستیں پیش کی گئیں۔ ایک فہرست 2020 میں نکالے گئے تقریباً 1150 کنٹریکٹ/26 اور 21 دن کی بکنگ والے افراد کی تھی۔ دوسری فہرست پی بی سی کے تمام اسٹیشنوں پر لمحہء موجود میں بکنگ کی بنیاد پر پروگراموں میں شرکت کرنے والے تقریباً 1850 کے قریب performing artists مثلاً announcers, comperes, RJs, drama, feature voices, script writers, news casters, translators وغیرہ کی تھی۔ اس پر سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر اور سیکرٹری فنانس نے انتہائی تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات و نشریات اور ڈی جی پی بی سی سے استفسار کیا کہ ایک طرف تو اپ 1150 کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے اور سالانہ تقریباً 16 کروڑ روپے کی بچت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف اس کے بعد 1850 سے زیادہ لوگوں کو پھر سے رکھ کر 24 کروڑ روپے سالانہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہو، یہ کیا ڈبل اسٹینڈرڈ ہے اور ہمیں دھوکہ (cheat) کیوں دے (کر) رہے ہو؟
آرٹسٹوں کی بکنگ چونکہ پروڈیوسر اور اسٹیشن لیول کا کام اور ذمہ داری ہے، اس لئے ڈی جی اور سیکرٹری اطلاعات و نشریات اس میکینیزم سے قطعی طور پر لاعلم رہتے ہوئے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے اور ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ ((یاد رہے کہ گزشتہ کئی ڈی جی صاحبان (بشمول موجودہ) نے پروگرام ونگ کے بار بار مطالبے کے باوجود اس حوالے سے مفصل بریفننگ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی))۔ اس خاموشی اور لاعلمی پر وزیر اعظم آفس اور فنانس کے سیکرٹریز نے ڈی جی پی بی سی اور سیکرٹری اطلاعات و نشریات کی خوب کلاس لی، اور دونوں کو فوری طور پر ان 1850 لوگوں یا ان میں سے کم از کم 1000 لوگوں کو فی الفور اور باقی کو بعد میں فارغ کرنے کا حکم دیا۔
تب ہی ڈائریکٹر جنرل صاحب نے حالیہ ارڈر جاری کرتے ہوئے ایک کمیٹی بنائی اور اس کے تسلسل میں کنٹرولر آڈٹ کی طرف سے 5 دسمبر 2022 کے خط اور پروفارما کے ذریعے آرٹسٹوں کے متعلق معلومات مانگی گئی ہیں۔ اس کا مقصد صرف اور صرف ایک ہی ہے، بکنگ کی بنیاد پر پروگراموں میں شرکت کرنے والے آرٹسٹوں کی موجودہ تعداد میں کم از کم 50 فی صد کمی کرنا جس کی مثال بیلے گئے گنے کو دوبارہ بیلن مشین میں سے گزار کر گنے کا جوس حاصل کرنا یا سوکھی لکڑی سے رس نکالنے جیسی ہے، کیونکہ پی بی سی کے تمام اسٹیشنوں پر موجودہ پروگراموں میں انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معیار سے نہایت کم آرٹسٹوں کو بلایا جاتا ہے اور اس پیمانے سے کئی سو گنا کم رقم خرچ کی جا رہی ہے ۔
اس وقت پی بی سی کے سالانہ چھ ارب روپے کی بجٹ میں پروگرام، نیوز اور کرنٹ افیئرز، تینوں ملا کر Production Expenses کے مد (ہیڈ) کے تحت کل بجٹ صرف 24 کروڑ روپے ہے جو پی بی سی کے سارے بجٹ کا صرف 04 فی صد ہے. صحرائے تھر کی اس بھوکی سوکھی گائے کی مانند ریڈیو پاکستان کے معمولی سی پروڈکشن بجٹ سے بیوروکریسی بالٹیاں بھر بھر کر دودھ چھونا چاہتی ہے اور مطالبہ ہے کہ اس موجودہ پروگرام و نیوز بجٹ کو دس کروڑ روپے سالانہ سے بھی کم کیا جائے۔
وزارت خزانہ کے جون 2022 کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 23 -2022 کے لئے وفاقی حکومت کے اخراجات کا کل تخمینہ 9502 ارب لگایا گیا تھا۔ ایک طرف سالانہ ساڑھے نو ہزار ارب روپے کے اخراجات جن میں سے زیادہ تر رقم بیوروکریسی کے اللوں تللوں پر خرچ ہوتی ہے، وہ بحر بے کراں ان کو نظر نہیں آتی اور دوسری طرف ریڈیو پاکستان کے غریب، نادار اور مفلس آرٹسٹوں کے سالانہ 24 کروڑ روپے جن کی حیثیت چنوں کے چند دانوں جیسی ہے، وہ رقم اس ظالم اور بے رحم افسر شاہی کی نظروں میں کھٹکتی ہے۔
اگر ہم بیوروکریسی کی شاہ خرچیوں پر ایک سرسری سی نظر ڈالیں تو صرف اس سال ہر بیوروکریٹ کی تنخواہ میں 15 فی صد DRA،
15 فیصد عبوری اضافے کے ساتھ ساتھ 150فی صد Executive Allowance کا اضافہ ہوا ہے، اردلی الاؤنس اور دیگر چھوٹے موٹے الاونسیز ملاکر اس سال ہر بیوروکریٹ کی تنخواہ میں کم ازکم 200 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ کرپشن اور کمیشن کے ذریعے کمائی اس کے علاوہ ہے۔
غریب، مقروض اور پسماندہ ملک میں اپنی ذات کے لیے غضب کی یہ شاہ خرچیاں اور سب مراعات و من مانیاں ان بیوروکریٹس کو نظر نہیں آتی مگر ملک بھر میں پھیلے ہوئے غریب آرٹسٹوں کے فنکارانہ صلاحیتوں کے بدلے محنت و مشقت سے حاصل کئے گئے چند نوالے ان ظالموں کو ایک آنکھ بھی نہیں بھاتے۔ اگر ہم صرف وزیراعظم آفس کے سیکرٹری ڈاکٹر توقیر احمد شاہ کی مثال لیں تو اکیلے ان کے ذمے 2014 کے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 18 بے گناہ شہداء کے خون کا قرض واجب الادا ہے۔ تب وہ سیکرٹری ٹو دی چیف منسٹر پنجاب تھے اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے نامزد کئے گئے مرکزی ملزمان میں سے ایک ہے۔
ان مگرمچھوں، بے رحم اور ظالم لوگوں کی وجہ سے ملک تباہی کی طرف جانے کے ساتھ ساتھ ان کے اس ناروا سلوک اور منفی روئے سے پاکستانی معاشرے سے ارٹ، کلچر، ادب اور فنون لطیفہ کا جنازہ بھی بڑی دھوم دھام سے نکالا جا رہا ہے، جس کی جگہ بڑی تیزی سے لاقانونیت، چوری چکاریاں، اسٹریٹ کرائمز، عدم برداشت، بدمزاجی، انتہا پسندی، خود کشیاں اور دیگر معاشرتی برائیاں لے رہی ہیں۔ ارٹ، کرافٹ، کلچر، ادب اور فنونِ لطیفہ کے ذریعے سے ہی پوری دنیا میں ملک کا نرم و ملایم اور شائشتہ چہرہ (soft image) اجاگر کیا جاتا ہے جس میں ریڈیو (ملکی سرحدوں کے اندر و باہر سنا جانے والا ذریعہ ابلاغ) بھی ایک مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ کاش کہ ان سنگ دلوں اور بے حسوں کو اس ناقابلِ تردید حقیقت کا احساس وادراک ہوجائے، مگر متذکرہ بالا اٹھائے گئے حالیہ اقدامات سے اس کی مکمل طور پر نفی ہوتی ہے۔ مصدقہ ذرائع سے حاصل کردہ اطلاعات میں بتایا جارہا ہے کہ سابق وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کے پراجیکٹ (Cut & reduce Radio Pakistan to one room) پر دوبارہ سے آغاز ہو چکا ہے، جس کےلئے اس منصوبے کے ماسٹر مائنڈ سابق ڈی جی پی بی سی و سیکرٹری اطلاعات و نشریات شفقت جلیل نے تواتر کے ساتھ ریڈیو پاکستان آنا شروع کر دیا ہے اور موجودہ ڈائریکٹر جنرل صاحب کو اس کا مین بلیو پرنٹ دے کر بریفننگ دیتے رہتے ہیں۔ مزید برآں اس پراجیکٹ کے ابتدائی حصے کے طور پر پہلے ہی کچھ پی بی سی یونٹوں کو بند کرنے اور سینکڑوں آسامیاں ختم کرنے کے مشن کو سر انجام دینے والے ادارے کے اندر سے ایک مطلب پرست اہلکار محمد اعجاز خان، جس کے ساتھ موجودہ ڈائریکٹر ایڈمن کی نا چاقی ہے، اس بنا پر اسے کنٹرولر سیلز کا چارج دیا گیا ہے، نے ڈائریکٹر جنرل صاحب کی قربت حاصل کرتے ہوئے ازسر نو پی بی سی کی جسامت کو چھوٹا کرنے کے منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا ہے اور اس کام کے لئے وہ رات گئے دیر تک صدر دفتر میں موجود رہتے ہیں۔ منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں صداکاروں اور فنکاروں کی تعداد نصف سے کم کر دی جائے گی، پروگراموں کا موجودہ دورانیہ بھی آدھا کر دیا جائے گا، دور دراز کے ریڈیو اسٹیشنز کو بند کر دیا جائے گا، کچھ کو براڈکاسٹنگ اسٹیشن کی جگہ ریلے اسٹیشن میں تبدیل کردیا جائے گا اور اس کے بعد مستقل اسٹاف کی تنخواہیں مہینوں مہینوں لٹکا کر ان کو نوکریاں چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مستقل ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائر ملازمین کی پینشن کی ادائیگی میں ماہ اکتوبر 2022 سے تاخیر کرنا شروع کر دی گئی ہے۔
وفاقی بیوروکریسی کے درج بالا ذکر شدہ اقدامات سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ 14 اگست 1947 کو پاکستان کے قیام کا اعلان کر نے والے اس قومی ادارے کی آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش کرانے کا وقت قریب آن پہنچا ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں