37

اٹک جیل میں ملاقاتی خواتین کو ہراساں کرنے سمیت کئی دیگر بدترین جرائم کا انکشاف محکمہ داخلہ کی رپورٹ میں جیل کےسپرنٹنڈنٹ ،ڈپٹی سمیت 8اہل کاروں کی رشوت خوری خواتین کے ذریعے منشیات جیل میں منگواتےہیں،

اٹک ڈسڑکٹ جیل اٹک کے حوالے سےصوبائی انٹیلی جنس سنٹر محکمہ داخلہ پنجاب کی رپورٹ سامنے آئی ہے ، جس میں ملاقاتی خواتین کو ہراساں کرنے سمیت کئی دیگر بدترین جرائم ہونے کا انکشاف کیا گیا ہےکے مطابق صوبائی انٹیلی جنس سنٹر کی خصوصی رپورٹ میں ڈسڑکٹ جیل اٹک میں ملاقات کے لیے آنے والی خواتین کو ہراساں کیے جانے کے علاوہ جیل سپرنٹنڈنٹ ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 8 اہل کاروں کے مبینہ رشوت خوری میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق جیل میں قید منشیات فروش جن پر مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں، خواتین کے ذریعے منشیات جیل میں منگواتے ہیں، منشیات جیل کی کینٹین پر منگوائی جاتی ہے، جسے جیل اہلکار وہاں سے اندر پر نچاتا ہے،جیل کےاندر منشیات فروشی میں ملوث عناصر اس قدر بااثر ہیں کہ وہ بے خوف ہوکر دھڑلے سے کام کرتے ہیں ، جیل میں ہر قسم کی منشیات مہنگے داموں دستیاب ہے نجی ٹی وی کے مطابق لنگر خانے پر بھی رشوت لی جاتی ہے، جہاں تقریباً 100 قیدی تعینات کیے گئے ہیں، مگر 70 ایسے ہیں جو 5 ہزار فی کس ماہانہ دے کر مشقت نہیں کرتے اور ان کی جگہ غریب قیدیوں سے مشقت کروائی جاتی ہے، رپورٹ کے مطابق ایک اہلکار نے لنگر خانے پر رشوت وصولی سے انکار کرکے خود کو تبدیل بھی کروا لیا ہےانٹیلی جنس سنٹر کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جیل میں چند ادویات ہی دی جاتی ہیں، دیگر ادویہ کی ضرورت ہو تو ڈاکٹر سے لکھوا کر باہر سے منگوائی جاتی ہیں، جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے لیے دن مقرر ہیں، تاہم ملاقاتی کی حیثیت دیکھ کر 500 سے 2 ہزار روپے وصول کرکے کسی بھی دن ملاقات کروادی جاتی ہے جب کہ صاحب ثروت افراد 10 ہزار روپے تک دے کر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے کمرےمیں روبرو ملاقات کرسکتے ہیں رپورٹ کے مطابق عام قیدیوں کو جیل مینوئل کے مطابق کھانا دیا جاتا ہے، تاہم جیل کے باہر سے ایک ہزار روپے میں پسند کا ناشتہ، 5 ہزار روپے میں چکن کڑاہی اور 10 ہزار روپے میں مٹن کڑاہی فراہم کی جاتی ہے، منشیات مقدمے کا سزا یافتہ قیدی ماہانہ 50 ہزار روپے دے کر جیل کا لباس نہ پر ننے و دیگر سہولیات لینے میں خودکفیل ہے،خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قتل کے جرم میں ایک پولیس اہلکار بھی 30 ہزار ماہانہ دے کر سہولیات حاصل کر رہا ہے انٹیلی جنس سنٹر کی رپورٹ کے مطابق جیل میں منشیات کے ریکارڈ یافتہ قیدیوں کے بار بار قید ہونے کی وجہ سے تعلقات بن چکے ہیں، وہ جیل کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں،رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ڈسڑکٹ جیل میں مذکورہ معاملات پر اعلیٰ سطح کی انکوائری کروائی جائے ، نیز جیل میں ملاقات کے لیے آنے والی خواتین کی تمام ترذمے داری خواتین جیل سٹاف کی ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں