43

سندھ ہائیکورٹ نے گدی نیشن کے تنازع 23 سال بعد فیصلہ 39 برس قبل گدی نشین کے تنازعہ 7 افراد ہلاک ہوئےجن کے قتل میں سزایافتہ 15 ملزمان بری

سندھ ہائیکورٹ

لواری شریف کی گدی نیشن کے تنازع کا کیس

عدالت نے 23 سال بعد اپیلوں پر فیصلہ سنادیا

بدین ضلع میں 39 برس قبل گدی نشین کے تنازعہ سات افراد ہلاک ہو گئے تھے

عدالت نے سات افراد کے قتل میں سزایافتہ 15 ملزمان کو بری کردیا

عدالت نے تاج محمد، بادل، عیدن ، غلام حیدر ،الہی بخش سمیت 15 ملزمان کو سزائیں ہوئی تھی ،تحریری فیصلہ

کیس میں 32 ملزمان نامزد تھے ،تحریری فیصلہ

11 ملزمان ٹرائل کے دوران انتقال کرگیے ہیں ،تحریری فیصلہ

سزا کے بعد دو ملزمان جیل میں انتقال کر چکے ہیں ،تحریری فیصلہ

بد قسمتی سے ہائیکورٹ تک اس کیس کے فیصلے میں 39 سال کا عرصہ لگ چکا ہے،جسٹس عمر سیال

کیس 17 سال ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت رہا ،جسٹس عمر سیال

کیس کا ریکارڈ غیر ضروری طور پر طویل بنایا گیا ،جسٹس عمر سیال

کیس میں غیر ضروری طور پر بار بار طویل جرح کی گئیں ،جسٹس عمر سیال

سینئر وکیل محمود قریشی نے بڑی مشکل سے کیس کے ریکارڈ کو ٹھیک کیا،

وکلا کی محنت سے کیس کی سمت کا صحیح تعین ہوا ،جسٹس عمر سیال

اپیل کنندہ میں سے کوئی بھی شواہد کی روشنی میں سات افراد کے قتل میں ملوث نہیں پایا گیا ،عدالت

پراسکیوشن ملزمان کے خلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے ،عدالت

تمام ملزمان ضمانتوں پر رہا تھے ،عدالت

پیر گل حسن کے انتقال پر دو گروہوں میں 1983 میں تصادم ہوا تھا ،پراسکیویشن

ملزمان کا گروہ پیر فیض محمد کو گدی نیشن بنانا چاہتا تھا ،پراسکیویشن

جبکہ مدعی مقدمہ کا گروہ پیر فیض کو گدی نیشن بنانے سے انکاری تھا ،پراسکیویشن

مسلح تصادم میں سات افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے ،پراسکیویشن

آپ لوگوں سے معذرت خواہ ہوں آپ لوگوں نے 39 سال تک عدالتوں کے دکھے کھائے ،جسٹس عمر سیال کا ملزمان سے مکالمہ

یہ سسٹم ہی ایسا ہے اس میں نا آپ کا قصور ہے نا آپ کے وکلاء کا،جسٹس عمر سیال

دشمنی میں جو کچھ ہونا تھا ہو گیا ذرا سوچئے گا اس دشمنی سے کسی کو کیا ملا ،جسٹس عمر سیال کے ریمارکس

بڑی مہربانی ہوگی اس دشمنی کو یہی ختم کردیں ،جسٹس عمر سیال

اپنی آئندہ نسلوں میں اس زہر کو مت پھیلنے دیں،جسٹس عمر سیال

اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں اور انہیں ایک ذمہ دار شہری بنائیں ،جسٹس عمر سیال

ملزمان کی پیروی سنئیر قانون دان محمود اے قریشی ایڈووکیٹ نے کی ،عدالت

عدالت نے فیصلہ میں محمود اے قریشی ایڈووکیٹ کی کوششوں کو سراہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں