13

ڈیرہ میں دو نمبر اور”چٹے ان پڑھ“صحافیوں کی بھر مار

ڈیرہ اسماعیل خان
ڈیرہ میں دو نمبر اور”چٹے ان پڑھ“صحافیوں کی بھر مار۔موٹر سائیکلوں اورکاروں پر جعلی پریس کی نمبر پلیٹیں لگا کر اپنے”کام“سرانجام دینے میں مصروف،”اصلی صحافیوں“کو ان ڈمی صحافیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا،ڈی سی سے صورت حال کا نوٹس لینے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق گزشتہ چند سالوں سے ڈیرہ اسماعیل خان میں جعلی صحافیوں کی بھرمار ہو چکی ہے،اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،جسے کوئی کام نہیں وہ صحافی بن بیٹھا ہے،اکثریت نے اپنے مکروہ دھندوں پر پردے ڈالنے کے لئے صحافت کی آڑ لے رکھی ہے،موٹر سائیکلوں اور کاروں پر جعلی پریس نمبر پلیٹ سجا رکھی ہیں۔ سرکاری،غیر سرکاری اور عام لوگوں کو بلیک میل کر رہے ہیں۔ان کے پاس نام نہاد اخبارات کے پریس کارڈ ہوتے ہیں۔ان کو کوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔دیکھا گیا ہے کہ ان میں اکثریت ان پڑھ افراد کی ہے اور دو لفظ اردو کے بھی نہیں لکھ سکتے۔اس صورت حال سے”اصلی قلم کار“پیچھے رہ گئے ہیں۔انہوں نے ڈی سی ڈیرہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک آپریشن ان جعلی اور ان پڑھ صحافیوں کے خلاف بھی کریں تاکہ حقیقی صحافیوں کو اپنے کام میں پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں