20

یف آئی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کے خلاف کیس دائر کرنے کی غلطی تسلیم کرلی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ غیر ضروری ہراساں کرنے کے اثرات ہوتے ہیں۔ آزادی اظہار رائے اہم بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔

ایف آئی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کے خلاف کیس دائر کرنے کی غلطی تسلیم کرلی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ غیر ضروری ہراساں کرنے کے اثرات ہوتے ہیں۔ آزادی اظہار رائے اہم بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سابق چیئرمین پیمرا اور سینئر صحافی ابصار عالم کی ایف آئی اے کے کال آف نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ قانونی رائے کے تحت اس کیس کو بند کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ نے نوٹس جاری کیوں کیا تھا؟ یہ طاقت آپ اس وقت استعمال کریں کہ جب ایف آئی اے کے لوگ تربیت یافتہ ہو جائیں۔ یہ غیر ضروری ہراساں کرنا ہے۔ غیر ضروری ہراساں نہ کریں، اس کے اثرات ہوتے ہیں۔ آزادی اظہار رائے بہت اہم بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ جن کی اپنی آواز نہیں ہوتی یہ ان کی بھی آواز بنتے ہیں۔ ریاست کا تو کام ہے کہ وہ آزادی رائے کی حفاظت کرے۔ یہ درست عمل ہے کہ ایف آئی اے نے غلطی تسلیم کرلی، آئندہ کے لئے چیزیں درست ہو جائیں گی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ سیکشن 20 کے تناظر میں ایس او پیز بھی آگئے ہیں۔ ابصار عالم کی اس درخواست کو نمٹا دیا جائے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہم اس درخواست کو ابھی نہیں نمٹا رہے، اس درخواست کو ایف آئی اے کیخلاف دیگر درخواستوں کے ساتھ 27 ستمبر کو دوبارہ سماعت کے لئے مقرر کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں