70

31مارچ کواسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان آل پاکستان پرائیویٹ سکولزفیڈریشن اور نیشنل سولُ سوسائیٹی کاآئینی تعلیمی حقوق کے لیے “تعلیم بحالی مارچ”

31مارچ کواسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان

آل پاکستان پرائیویٹ سکولزفیڈریشن اور نیشنل سولُ سوسائیٹی کاآئینی تعلیمی حقوق کے لیے “تعلیم بحالی مارچ”

قائدین میں صدر کاشف مرزا-نعیم میر۔ایڈووکیٹ زیشان ورائچ آل پاکستان لائرز فیڈریشن۔ایڈووکیٹ یوسف بلال۔ایڈووکیٹ مدثر درانی۔ شاھد نور۔ابرار حسین۔ملک خالدمحمود-عدنان فیصل۔حسنین مرزا ۔شبیرہاشمی۔راناانصرمحمود-انجنئیر خلیق عادل۔حفیظ طاہرصدرآل پاکستان پیرینٹس ایسوسی ایشن۔تمسیلہ جاویدصدر پیرینٹس ایسوسی ایشن پاکستان۔چوھدری انصرمحمود-ظہوراحمد ۔مزمل صدیقی۔عمران احمد-عمران یوسف-وسیم عابد-ڈاکٹر شکیل-منیریاسر-امتیاز شوکت-ضیاء الرحمن-حافظ ندیم اسلم-حافظ منان -شعیب خان-الیاس فریدی-جمیل شاھد۔ شفیق احمد۔طارق حیدر۔ڈاکڑمحمداسلم-ڈاکڑ سحر ندیم۔رفیع الدین پراچہ- اعجاز چوھدری۔لطیف شیخ ودیگرشامل تھے۔

مشترکہ اعلامیہ کے مطابق:

سکولزمزید ۱۱ اپریل تک بند نہیں ہوں گے۔تعلیمی ادارے کھلے رکھیں گے! کاشف مرزا

تادیبی کاروائیاں بند کی جائیں۔کاشف مرزا

حکومت غیرآئینی اقدامات بند کرے،تعلیمی بندش آئین کےآرٹیکل 18,8،5,4,3, 25(1)، 25(A) 37 اور38 سےمتصادم، امتیازی وغیر قانونی ہے۔

طلبا،اساتذہ واسٹاف کو ویکسین ترجیح بنیادوں پرکی جائے۔

حکومتی وسیاسی اجتماعات کرونا پھیلاو کی اصل وجہ، فوری بند کیے جائیں۔

وزیراعظم،چیف جسٹس،آرمی چیف اور NCOC غیر قانونی سیاسی اجتماعات رکوائیں اورتعلیمی سلسلہ بحال رکھا جائے۔

سب کھلا ہے توسکولزمزید بند نہیں ہوں گے۔

مائیکرولاک ڈاون کاآپشن استعمال کیا جائے۔

یونیسف کےمطابق سکولزکی بندش سے 4 کروڑ پاکستانی طلباکی تعلیم مستقل متاثرہوئی ہے۔

تعلیم گھر ٹی وی، ریڈیواور آن لائن ڈرامہ فلاپ پروگرام! سہولت محض2%طلباتک ہے۔

تعلیمی لاک ڈاؤن باعث5کروڑطلباکےتعلیمی نقصان کاازالہ ناممکن ہے۔

2.5کروڑ پاکستانی بچےپہلے ہی اپنے آئینی حق سے محروم ہیں۔

-UN،یونیسف،یونیسکووعالمی بنک ایڈویزری کےمطابق کورونامیں بھی سکولز کھلے رکھے جائیں۔

نجی سکولزکا معاشی قتل ہے، بندش سے 10000سکولز مکمل بنداور7لاکھ ٹیچرزبےروزگار ہوچکے ہیں۔ُ

مارکیٹ میں سنگل نیشنل کریکمSNC کی نئی کتب عدم دستیاب ہیں۔ طلبا کا مزید تیسرا سال ضائع نہ ہونےدیں گے-

گیلپ سروےمطابق87%والدین بچے سکولز بجھوانا چاہتے ہیں

بچوں کواستاداور سکول دو!2025 تک مزید 25لاکھ اساتذہ بھرتی کرنا ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں